لاہور،19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ ”ڈیجیٹل نیشن پاکستان”محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک جامع وژن ہے،جس کے تحت حکومتی نظام کو مرحلہ وار مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ایکسپو سینٹر میں منعقدہ 27 ویں آئی ٹی سی این ایشیا کے موقع پر فن ٹیک فارورڈ فورم سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔خرم شہزاد نے کہا کہ اس وقت99 فیصد فائلیں ایک وزارت سے دوسری وزارت میں ڈیجیٹل طریقے سے منتقل ہو رہی ہیں، جس سے فائلوں کے ضائع ہونے یا تاخیر جیسے مسائل کا خاتمہ ہو گیا ہے۔اب کوئی یہ موقف اختیار نہیں کر سکے گا کہ اسے فائل موصول نہیں ہوئی،کیونکہ ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے ہر مرحلے کی نگرانی ممکن ہو گئی ہے، جس سے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت کا واضح ہدف ہے کہ120 ملین اکاؤنٹس اور حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) کے تمام معاملات کو100 فیصد ڈیجیٹل بنایا جائے، جبکہ رواں سال پورا حکومتی نظام ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے کرپٹو ہولڈرز کو ٹیکس میں مراعات دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور اس سلسلہ میں مختلف آپشنز زیرِ بحث ہیں۔ایک سوال کے جواب میں خرم شہزاد نے بتایا کہ انڈسٹریل پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ایس ایم ایز، زراعت اور نوجوانوں کو کاروبار کے آغاز کیلئے چھوٹے قرضے دیئے جا رہے ہیں تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہنرمند افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے اسکل بانڈز بھی جاری کئے جا رہے ہیں۔خرم شہزاد نے ڈیجیٹل معیشت میں حکومت کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری جدت طرازی کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کیلئے معاون پالیسی فریم ورک تشکیل دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو با اختیار بنانے کیلئے فعال طور پر پالیسیاں مرتب کر رہی ہے،بالخصوص جدید مالیاتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں نئے مواقع پیدا کئے جا رہے ہیں۔عالمی تناظر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بٹ کوائن کی عالمی سپلائی تقریبا21 ملین تک محدود ہے،جس کے باعث ڈیجیٹل اثاثے آج کے عالمی مالیاتی منظرنامے میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دستیاب رپورٹس کے مطابق پاکستان میں بٹ کوائن اور کرپٹو مائننگ پہلے سے جاری ہے،جو اس شعبے میں ملک کے اندر بڑھتی ہوئی دلچسپی اور تکنیکی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ریگولیٹری اور ادارہ جاتی امور پر گفتگو کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ کرپٹو اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے اور بہتر طور پر سمجھنے کیلئے ایک خصوصی فریم ورک یا اتھارٹی کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے،تاہم پاکستان اس میدان میں ابتدائی مراحل میں ہے۔انہوں نے متحدہ عرب امارات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ورچوئل اثاثوں کیلئے ایک منظم اور موثر نظام پہلے ہی موجود ہے جبکہ پاکستان بھی عالمی بہترین تجربات سے سیکھتے ہوئے محتاط مگر پراعتماد انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔سیشن کے اختتام پر متوازن پالیسی سازی،جدت طرازی کے موافق ریگولیشنز اور عالمی بہترین طریقوں کی اہمیت پر زور دیا گیا ۔











