دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ٹیلی میڈیسن سب سے مؤثر اور جدید نظام ہے، مصطفیٰ کمال

9

اسلام آباد،14جنوری  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے  قومی صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کےلئے ٹیلی میڈیسن سب سے مؤثر اور جدید نظام ہے۔

انہوں نے یہ بات بھمبر تراڑ میں ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیلی میڈیسن کے فروغ  کے حوالے سے  گزشتہ ماہ ’’صحت کہانی‘‘ کے ساتھ معاہدہ کیا گیا جس کے تحت ملک بھر میں ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ کیئر سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پانچ ہزار آن لائن ڈاکٹرز کو ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر سینٹرز کےلئے مختص کیا گیا ہے جو دور بیٹھ کر مریضوں کا علاج کریں گے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پہلا ٹیلی میڈیسن سینٹر اسلام آباد کے پہاڑی علاقے گوکینہ  اور  دوسرا کراچی میں قائم کیا گیا ہے، جبکہ بھمبر تراڑ میں بھی ٹیلی میڈیسن کے ذریعے مقامی شہریوں کو علاج کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھمبر میں بنیادی مرکز صحت کی عمارت تو موجود تھی مگر ڈاکٹر تعینات نہیں تھا جبکہ یہاں سے اسلام آباد کے بڑے ہسپتال تک پہنچنے میں ایک گھنٹے سے زائد وقت لگتا ہے جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب مقامی آبادی کو علاج کی سہولت اپنے ہی علاقے میں دستیاب ہو گی اور صرف بڑے امراض میں مبتلا مریضوں کو بڑے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑے گا۔ وفاقی وزیر صحت کے مطابق 70 فیصد لوگ نزلہ، زکام، بخار، درد، بلڈ پریشر اور دیگر معمولی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، ایسے مریضوں کو بڑے ہسپتالوں کے بجائے قریبی صحت مراکز میں علاج کی سہولت دینا ناگزیر ہے جس سے بڑے ہسپتالوں پر رش میں نمایاں کمی آئے گی۔

 مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک میں پرائمری ہیلتھ کیئر کا نظام غیر فعال ہو چکا تھا جسے اب ٹیلی میڈیسن کے ذریعے ازسرنو فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں وزارت صحت کی سمت درست نہیں تھی، تاہم اب وزارت اپنے درست ٹریک پر آ چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ کیئر سینٹرز کو صرف علاج تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ انہیں عوام میں صحت سے متعلق آگاہی بیدار کرنے کا ذریعہ بھی بنایا جائے گا۔ انہوں نے  بتایا کہ کراچی کے ٹیلی میڈیسن سینٹر میں قطر میں بیٹھا ڈاکٹر آن لائن مریضوں کا معائنہ کر رہا ہے جبکہ شادی کے بعد گھروں تک محدود ہو جانے والی خواتین ڈاکٹرز بھی آن لائن مریضوں کا علاج کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ کیئر سینٹرز دوپہر کے بجائے شام تک کھلے رہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں، دوسرے شہروں میں موجود گائناکالوجسٹ، شوگر، جلد اور میڈیکل سپیشلسٹ پورا ہفتہ آن لائن مریضوں کا علاج کریں گے۔ وفاقی وزیر صحت نے عوام کو صاف پانی پینے اور حفاظتی ٹیکے لگوانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے جبکہ ماں کی صحت کی بہتری کےلئے بچوں میں مناسب وقفہ انتہائی ضروری ہے۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف خود صحت سے متعلق امور پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور تصاویر بھجوا کر معلومات لیتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے وزارت صحت ہر وقت الرٹ رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے پیش نظر صحت سمیت تمام شعبوں میں جامع منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ یہ اقدامات صرف ابتدا ہے، یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے اور مستقبل میں مزید ٹیلی میڈیسن سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا میں 56 حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں جبکہ پاکستان میں صرف 13 ٹیکے لگتے ہیں، اس خلا کو پر کرنے کےلئے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 15 سال بعد کوئی شخص کینسر سے نہیں مرے گا، تاہم اگر کینسر ویکسین جیسے جدید علاج کو سازش قرار دیا گیا تو قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہیں گی۔