قومی صحت کارڈ کے اجراء کی افتتاحی تقریب

15

اسلام آباد، 16 جنوری (اے پی پی): وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے وزیرِاعظم کے قومی صحت کارڈ کے اجراء کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستقل رہائشی صحت کی مفت سہولیات سے مستفید ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان تینوں علاقوں کی تقریباً ایک کروڑ آبادی کو علاج کی مفت سہولت میسر آئے گی۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ایک کروڑ تیس لاکھ پاکستانی بیماریوں کے باعث خطِ غربت تک پہنچ چکے ہیں۔ قومی صحت کارڈ کے ذریعے اب کسی غریب کو اپنے خاندان کے علاج کے لیے دربدر کی ٹھوکریں نہیں کھانا پڑیں گی اور لوگوں کو علاج کے لیے گھر کے برتن اور زیور فروخت نہیں کرنے پڑیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بچہ غربت کی وجہ سے علاج سے محروم نہیں رہے گا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ایک ہزار سے زائد نجی اور سرکاری ہسپتال صحت کارڈ کے پینل پر موجود ہیں جہاں ایمرجنسی ہو یا بڑا آپریشن ہر مریض کو عزت اور سہولت کے ساتھ مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم پاکستان کی دوراندیش قیادت میں اب کوئی ماں علاج کے اخراجات کے خوف میں مبتلا نہیں ہوگی۔

وفاقی وزیرِ صحت نے وزیرِاعظم سے درخواست کی کہ آئندہ ہیلتھ بجٹ میں سندھ کے 10 شہری اور دیہی اضلاع کو بھی صحت کارڈ کی سہولت دی جائے جس پر سالانہ تقریباً 24 ارب روپے لاگت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی ایک ہی گلی میں رہنے والے کچھ افراد کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہے جبکہ کچھ اس سے محروم ہیں اور یہ فرق صرف شناختی کارڈ کا ہے۔ کراچی میں رہنے والا وہ شخص مفت علاج کروا سکتا ہے جس کا شناختی کارڈ کراچی کا نہیں جبکہ کراچی کے شناختی کارڈ ہولڈرز اس سہولت سے محروم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی درخواست پر وزیرِاعظم پاکستان نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں صوبہ سندھ کے وزیرِاعلیٰ سے بات کی جائے گی۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارا صحت کا نظام اب تک صرف سِک کیئر تک محدود رہا ہے حالانکہ ہیلتھ کیئر سسٹم کا مقصد صرف علاج نہیں بلکہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سِک کیئر سسٹم کو حقیقی معنوں میں ہیلتھ کیئر سسٹم بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔