موسمیاتی تبدیلی موجودہ دور  کا سب سے بڑا چیلنج ہے، وفاقی وزیر  ڈاکٹر مصدق ملک

11

 

اسلام آباد،22جنوری  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک  نے کہا ہے موسمیاتی تبدیلی موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے، پاکستان کا کاربن کے اخراج میں انتہائی معمولی حصہ ہے، پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں ہوتا ہے، بھارت کہتا ہے ہم سندھ طاس معاہدے کو نہیں مانتے پانی روک لیں گے، بھارت کو سوچنا چاہیے ان کا پانی بھی تو دوسرے ملک سے آ رہا ہے، بھارت پہلے بھی پاکستان سے چھیڑ خانی کر کے اس کا خمیازہ بھگت چکا ہے ، پانی روک کے چھوڑیں گے تو سیلاب آئے گا،پانی کو روک دیں گے تو قحط  ہوگا۔ جمعرات کو یہاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پاکستان کو مختلف ناگہانی آفات کے باعث شدید جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا،  سیلاب میں نسلوں پر محیط اثاثے تباہ ہو گئے، جبکہ سکولوں کی کتابیں اور مال مویشی بھی سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے۔ اس کے باوجود متاثرہ ممالک کو گرین فنانسنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر واضح دوہرا معیار پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اردگرد موجود دو ممالک دنیا کے 40 فیصد کاربن کے اخراج کے ذمہ دار ہیں، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ، گلیشیئرز کے پگھلاؤ سے تباہ کن سیلاب آتے ہیں جن سے کروڑوں افراد متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے 10 ممالک مجموعی طور پر 75 فیصد کاربن پیدا کرتے ہیں جبکہ یہی ممالک دنیا کی 85 فیصد گرین فنانسنگ بھی حاصل کر رہے ہیں، ایسے میں باقی 180 ممالک کیا کریں گے۔ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اگر ٹریلین ڈالرز کی معیشت بنانی ہے تو چند افراد  کی اجارہ داری ختم کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا پلورلزم ڈیموکیٹائزیشن اف ایکسس ڈیموکیٹائزیشن اف کیپیٹل فیرسٹ کمپٹیشن ٹریلین ڈالر اکانومی کا بنیادی خاکہ ہے جس کا حل وزیراعظم محمد شہباز شریف پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں دو طرح کی معیشتیں ہیں، ایک دیہی اور دوسری شہری۔ دیہی معیشت کے حوالے سے وزیراعظم کی دو اہم حکمت عملیاں ہیں۔ پہلی حکمت عملی زرعی پیداوار سے متعلق ہےجس میں سیڈ مافیا کے خاتمے، دنیا بھر سے بہترین بیج منگوا کر کسانوں کو مفت فراہم کرنے، پانی، بیج اور کھاد کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہےتاکہ ایک ایکڑ سے پانچ گنا زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے اور کھاد کا فائدہ براہ راست کسان کو ملے، نہ کہ صرف کھاد بنانے والی کمپنیوں کو۔ دوسری حکمت عملی کے تحت دیہی علاقوں میں ہر گاؤں کے اندر چھوٹے صنعتی یونٹس جیسے جیم بنانے کےکارخانے، پریزرویشن یونٹس اور کولڈ اسٹوریج کا قیام ہے  تاکہ زرعی پیداوار کا ضیاع کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ چھوٹے کارخانے دیہی علاقوں میں لگ جائیں، ان میں سولر انرجی اور بیٹری سلوشنز شامل ہوں، تو ٹریلین ڈالرز کی معیشت کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ اربن معیشت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکمت عملی دو حصوں پر مشتمل ہے، جس میں سمال ٹو میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کو سرمایہ فراہم کرنا شامل ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کاخواب  ہے کہ پاکستان عوام باعزت اور  باوقار زندگی گزاریں ۔