وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں اصلاحات واضح سمت اور مقصد کے ساتھ نافذ کی جارہی ہیں ، نائب وزیراعظم اوروزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا ”پاکستان پالیسی ڈائیلاگ“ سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب

7

اسلام آباد۔14جنوری  (اے پی پی):نائب وزیراعظم اوروزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پالیسیوں میں تسلسل پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے کہا ہے کہ وہ معاشی استحکام کے حصول اور عالمی برادری میں پاکستان کا نمایاں مقام بنانے کےلئے مزید محنت کریں۔ نائب وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں ”پاکستان پالیسی ڈائیلاگ“سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب باگ ڈور سنبھالی تو اسے ایک شدید معاشی عدم توازن ورثے میں ملا جس پر واحد ترجیح پاکستان کے طویل المدتی مفادات کو بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلے کئے گئے اور سیاسی آسانیوں کو ایک طرف رکھ کر ذمہ داری کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں اصلاحات اب واضح سمت اور مقصد کے ساتھ نافذ کی جارہی ہیں اور دیرینہ ناکامیوں کو منظم انداز میں دور کیا جا رہا ہے جن میں بڑے سرکاری اداروں کی نجکاری بھی شامل ہے۔

 نائب وزیراعظم اوروزیر خارجہ نے نجکاری کے عمل کے بارے میں کہا کہ کاروباری برادری کے تمام حلقوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد پی آئی اے کی نجکاری کامیابی سے مکمل کرلی گئی ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ اس عمل سے نہ صرف قومی ایئرلائن جدید خطوط پر استوار ہوگی بلکہ قومی خزانے پر پڑنے والا مالی بوجھ بھی کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی پیدا ہوئی ہے جس سے پاکستان کے نجکاری پروگرام پر اعتماد میں اضافہ ہوا اور معاشی اصلاحات کے عمل کو مزید تقویت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسلسل محنت کرنا ہوگی اور ہر آنے والی حکومت کو اسی تسلسل کے ساتھ کام جاری رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حالات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں، ہمیں امید نہیں چھوڑنی چاہئے، ہمیں مزید محنت کرنی ہے اور پاکستان کے پاس آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع موجود ہیں۔ گردشی قرضے کے خاتمے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت ادائیگی کے نظام میں نظم و ضبط نافذ کر رہی ہے، ریگولیٹرز کو مضبوط بنا رہی ہے اور توانائی کے شعبے کو مالی طور پر پائیدار بنا رہی ہے تاکہ توانائی کا شعبہ معاشی ترقی میں رکاوٹ بننے کے بجائے اس کا سہارا بنے۔ رائٹ سائزنگ اور اصلاحات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت غیر ضروری اخراجات ختم کر رہی ہے، وسائل کے ضیاع کو روک رہی ہے اور سرکاری اخراجات کو پیداوار اور خدمات کی بہتری کی جانب موڑ رہی ہے۔ ڈیجیٹل گورننس کے اقدامات کے ساتھ مل کر یہ اصلاحات اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ سرکاری وسائل عوام کی فلاح کےلئے موئثر طور پر استعمال ہوں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات وہی معاشی استحکام فراہم کر رہی ہیں جس کے پاکستانی مستحق ہیں۔ 2023 کی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کاروبار جمود کا شکار تھا، شرحِ نمو تقریباً صفر تھی اور لاگت 22 فیصد تک بڑھ چکی تھی لیکن وہ ہمیشہ کاروباری برادری کو کہتے تھے کہ پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ 2017 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان ایک مستحکم معیشت تھا، شرحِ سود 5.25 فیصد کی تاریخی کم ترین سطح پر تھی، ایکسپورٹ فنانس ریٹ 3.25 فیصد تھا اور معاشی شرحِ نمو 6.3 فیصد کے قریب تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں ترقی کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور کاروباری برادری اس ترقی کی قیادت کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کی توجہ معاشی استحکام کے حصول پر مرکوز ہے اور تمام عالمی ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کی ہے۔

 نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، بس درست سمت میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، آپ ایٹمی طاقت ہیں، اللہ نے آپ کو میزائل طاقت عطا کی ہے، اب صرف مکمل معاشی خودمختاری کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا یقین اور میرا ایمان ہے کہ پاکستان یہ حاصل کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار کےلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، یہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، پی آئی اے کے بعد ہم دیگر کئی شعبوں میں بھی ان بنڈلنگ اور اصلاحات کریں گے، بطور چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے نجکاری میں اس عمل کو تیز سے تیز تر کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس واضح روڈ میپ موجود ہے، مہنگائی کم ہو کر 5.6 فیصد (سی پی آئی) پر آ گئی ہے اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے نئی بلندیاں اور نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان معدنی وسائل، ہائیڈروکاربن، قیمتی پتھروں سے مالا مال ہے اور محتاط اندازے کے مطابق ان کی مالیت چھ سے آٹھ کھرب ڈالر تک ہوسکتی ہے۔ غیر ملکی قرضوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بیرونی کھاتے کے خسارے کو کم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے صرف 10 ارب ڈالر ترسیلاتِ زر میں اضافہ، 10 ارب ڈالر برآمدات میں اضافہ اور تقریباً 10 ارب ڈالر خدمات و دیگر شعبوں سے حاصل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جیو اکنامکس کو اپنی خارجہ پالیسی کے ہر بڑے شعبے میں شامل کر دیا ہے، ایک ایسا ملک جو تین سال پہلے سفارتی طور پر تنہا سمجھا جاتا تھا، آج الحمدللہ خطے میں سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ مطلوب شراکت دار بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات اور توانائی میں تعاون کو بھی فروغ دیا جارہا ہے اور گوادر بندرگاہ اور قراقرم ہائی وے سمیت ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے ذریعے علاقائی روابط کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے طویل المدتی معاشی فوائد کا باعث بنے گی۔ امریکہ کے ساتھ تعاون ٹیکنالوجی، توانائی، سرمایہ کاری اور مارکیٹ تک رسائی کے شعبوں میں پھیلا ہوا ہے جس کا مقصد پاکستان کی برآمدی مسابقت میں اضافہ اور تجارت و ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں کاروباری برادری کے ساتھ روابط مضبوط کیے جا رہے ہیں جبکہ خلیجی ممالک، ترکیہ اور مشرقِ وسطیٰ میں توانائی، خوراک، سکیورٹی، لاجسٹکس، خدمات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاشی تعلقات پاکستان کی ایف ڈی آئی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ ہیں۔

 نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی گرین، ڈیجیٹل اور انسانی وسائل پر مبنی ہونی چاہئے، موسمیاتی لحاظ سے محفوظ زراعت، قابلِ تجدید توانائی، پائیدار شہری ترقی اور گرین صنعتی مراعات اس ایجنڈے کا مرکزی حصہ ہیں اور پاکستان کی معاشی ریزیلینس کےلئے ناگزیر ہیں۔