وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت پاکستان میں آبادی کے تشویشناک اضافے پر اجلاس

10

اسلام آباد، 15 جنوری (اے پی پی): وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت پاکستان میں آبادی کے تشویشناک اضافے سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکریٹری صحت، اسپیشل سیکریٹری، ڈی جی پاپولیشن اور وزارتِ صحت کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی سے نمٹنے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آبادی میں بے قابو اضافہ ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے جس کے باعث ہر سال تقریباً 61 لاکھ افراد آبادی میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آبادی کی شرح کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ آبادی میں غیر معمولی اضافہ صحت کی سہولیات پر بے پناہ دباؤ ڈال رہا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آبادی میں اضافے کو کنٹرول کیے بغیر قومی صحت اور ترقیاتی پروگرامز اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے عملی، قابلِ عمل اور شواہد پر مبنی اقدامات تیار کرنے کی ہدایت کی۔

وفاقی وزیرِ صحت نے ماں اور بچے کی صحت کی بہتری کے لیے مربوط اقدامات کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مانع حمل ادویات کی دستیابی، افادیت اور استطاعت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مربوط پلان تشکیل دینے اور ملک بھر میں ماں اور بچے کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی سروسز کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پائیدار ترقی اور عوام کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین قریبی تعاون اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔