اسلام آباد۔15جنوری (اے پی پی):دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے خطے میں امن، مکالمے اور ثالثی کے فروغ کے لئے قطر کے تعمیری اور فعال کردار کو سراہتے ہوئے سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کےلئے قطر کی بامعنی کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔ جمعرات کو یہاں پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ٹیلیفونک گفتگو میں قطری قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کےلئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
ترجمان نے کہا کہ دونوں رہنمائوں نے آئندہ دنوں میں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ ترجمان نے کہا کہ دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور قطر کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی موجودہ مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا اور آزمودہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ترجمان نے کہا کہ اس موقع پر مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ صورتحال اور پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری بحرین کے سرکاری دورے پر ہیں، صدر نے منامہ میں بحرین کے شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ملاقات میں تجارت و سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، بحرین میں مقیم پاکستانی برادری کی فلاح و بہبود اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور برادر خلیجی ملک بحرین کے درمیان طویل عرصے سے قائم تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تجارت و اقتصادی شراکت داری، دفاع و سلامتی اور عوام سے عوام کے روابط میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے کیا جارہا ہے۔ ا
نہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گزشتہ ہفتے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے 22 ویں غیر معمولی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی، یہ غیر معمولی اجلاس صومالیہ کے خطہ صومالی لینڈ سے متعلق منعقد کیا گیا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ خطے کو غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر تسلیم کئے جانے اور اس کے بعد وہاں اپنے ایک عہدیدار کے بلاجواز اور انتہائی اشتعال انگیز دورے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے ان اقدامات کوصومالیہ کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔ ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے اسلامی تعاون تنظیم کے اصولی موقف اور مسئلہ جموں و کشمیر کے حل کےلئے مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کےلئے اپنی کوششوں میں مزید تیزی لائے۔











