پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ تجارتی کمیٹی جے ٹی سی کے قیام کا معاہدہ طے پا گیا، دوطرفہ تجارت بڑھانے اور ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق

8

کراچی،10جنوری  (اے پی پی):پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ تجارتی کمیٹی جے ٹی سی کے قیام کا معاہدہ طے پا گیاجبکہ دوطرفہ تجارت بڑھانے اور ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا جبکہ اکستان اور انڈونیشیا نے دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ عزم کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ انڈونیشین پام آئل ریسیپشن کے موقع پر ظاہر کیا گیا، جو جمہوریہ انڈونیشیا کی نائب وزیر تجارت دیاح رورو ایسٹی ودیا پُتری کے سرکاری دورۂ پاکستان کے موقع پر کیا گیا۔ اس موقع پر ایک تقریب  بھی منعقد ہوئی۔ تقریب میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ان کے ہمراہ اعلیٰ سرکاری حکام اور کاروباری برادری کے نمائندے بھی موجود تھے، جن میں چیئرمین پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن شیخ عمر ریحان اور دیگر صنعتی رہنما شامل تھے۔ اس موقع پر انڈونیشین پام آئل ایسوسی ایشن  کے چیئرمین ایڈی مارٹونو، پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر لیفٹیننٹ جنرل سوکتجو، اور انڈونیشیا و ملائیشیا کے قونصل جنرلز بھی موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت نے کراچی میں اس تقریب کے انعقاد پر انڈونیشی سفارت خانے کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مثبت پیش رفت پاکستان کی حقیقی تصویر کی عکاسی کرتی ہے اور اسے قومی و بین الاقوامی میڈیا میں زیادہ نمایاں کوریج ملنی چاہیے۔وزیر تجارت نے پاکستان کی معیشت میں پام آئل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 75 فیصد سے زائد آبادی خوردنی تیل استعمال کرتی ہے جو زیادہ تر انڈونیشیا سے درآمد کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے انڈونیشیا پاکستان کی غذائی زنجیر، کھانوں اور روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے انڈونیشین پام آئل ایسوسی ایشن اور پاکستانی صنعتی شعبے کے کردار کو دوطرفہ تجارت میں ان کی مسلسل خدمات پر سراہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان گہرے اور تاریخی تعلقات قائم ہیں، جو حالیہ اعلیٰ سطحی روابط سے مزید مضبوط ہوئے ہیں، جن میں انڈونیشیا کے صدر کا بڑے وفد کے ہمراہ پاکستان کا حالیہ دورہ اور وزارتی سطح کے مسلسل تبادلے شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا مظہر ہے کہ دونوں ممالک تجارت، کاروبار اور دوطرفہ تعاون کے فروغ کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔وفاقی وزیر نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی، خصوصاً آسیان، خلیجی، وسطی ایشیائی، افریقی، یورپی اور امریکی منڈیوں کے ساتھ روابط کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سنگل کنٹری نمائشوں کے انعقاد کا منصوبہ رکھتا ہے، جن میں انڈونیشیا میں مجوزہ نمائش بھی شامل ہے، تاکہ پاکستانی مصنوعات کو متعارف کرایا جا سکے اور نئے تجارتی مواقع تلاش کیے جا سکیں۔تقریب میں پاکستان اور انڈونیشیا کی حکومتوں کے درمیان مشترکہ تجارتی کمیٹی (جے ٹی سی) کے قیام کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد تجارتی مکالمے اور تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔اس کے علاوہ، گابُنگن پینگوُساہا کلیپا ساویت انڈونیشیا (GAPKI) اور پاکستان کی وناسپتی صنعت کے درمیان ایک اور مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے، جس کا مقصد پام آئل کے شعبے میں پائیدار پیداوار، منصفانہ اور متوازن تجارت، جدت اور طویل المدتی شراکت داری کے ذریعے تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس شراکت داری کا موضوع “انڈونیشیا-پاکستان: مشترکہ خوشحالی کے لیے شراکت” رکھا گیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انڈونیشیا کی نائب وزیر تجارت نے پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات کو اجاگر کیا اور پاکستان کے اعتماد پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے منصفانہ، متوازن اور پائیدار تجارتی شراکت داری کے لیے انڈونیشیا کے عزم کا اعادہ کیا۔