سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی اور نیپرا کے دیگر امور سے متعلق اجلاس

10

کراچی، 10 جنوری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ عوام سے 14ہزار میگاواٹ غیر فعال بجلی کے 2.2کھرب روپے وصول کیے گئے ہیں، کمیٹی نے نیپرا سے کراچی میں لوڈشیڈنگ سے متعلق دو سال پرانی زیرالتوا سروے رپورٹ دو دن میں طلب کرلی ہے۔ جاری اعلامیہ کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی اور نیپرا کے دیگر امور سے متعلق اجلاس ہفتے کے روز سندھ سیکرٹریٹ میں ہوا جس کی صدارت کمیٹی چیئرپرسن سینیٹر رانا محمود الحسن نے کی۔ اجلاس میںسینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر کاظم علی شاہ کے علاوہ سینیٹر محمد عبدالقادر اور سینیٹر عطاالرحمان نے آن لائن شرکت کی جبکہ کمیٹی کی دعوت پر اراکین صوبائی اسمبلی شارق جمال اور آصف موسی بھی اجلاس میں موجود تھے۔سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ ہم نے اسمبلی میں اعلانات کردیے کہ بجلی سستی ہوگئی، ایس آئی ایف سی نے آئی پی پیز کا آڈٹ کرلیا، ناکارہ پلانٹ بند کردیے لیکن اس سب کے باوجود نتیجہ کچھ نہیں، 25 کروڑ عوام کیلئے بجلی کا مسئلہ ہے، نیپرا کے پاس ایک ہزار میگاواٹ کے نئے کنکشنز کی درخواستیں پڑی ہیں، معلوم نہیں کہ ان پر کوئی پیشرفت ہورہی ہے یا نہیں۔ توانائی کی قیمت کی وجہ سے ہماری برآمدات نہیں بڑھ رہیں۔ 2200 ارب کے آپ کیپسٹی چارجز لے رہے ہیں، اس کا کیا کررہے ہیں۔چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ کمیٹی متفقہ طور پر یہ سفارش کرتی ہے کہ آئی پی  پیز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، کتنی نئی بجلی سسٹم میں آرہی ہے اور کتنے نئے پاور پلانٹ لگ رہے ہیں یہ بھی بتائیں۔اس موقع پرسینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس متعلق مزید بتایا کہ آڈٹ سے معلوم ہوگا کہ آئی پی پیز نے کتنی بجلی بنائی اور کتنی بجلی فراہم کی اور حکومت سے کیسپٹی چارجز کیا لیے۔انہوںنے کہا کہ آڈٹ میں یہ بھی شامل ہونا چاہیے کہ کس فیزیبلٹی پر پلانٹس لگے ہیں۔ اراضی کی مالیت کیا ہے، منصوبہ کی لاگت کتنی ہے، ایندھن کتنا لیتے ہیں اور پلانٹس پر لگنے والی مشینری کا آئوٹ پٹ کیا ہے، کیا ادارے مشینری کی سالانہ چیکنگ کررہے ہیں۔ اس موقع پر نیپرا عہدیدار نے جواب دیا کہ ٹیرف کے دو حصے ہیں، ایک کیپسٹی چارجز ایک انرجی چارجز، کیپسٹی چارجز میں ہم ساری لاگت لگاتے ہیں، وہ بجلی کے استعمال سے مشروط نہیں۔ کیپسٹی چارجز کم نہیں ہوسکتے، 4 کروڑ صارفین میں سے تھری فیز والے صرف 20 لاکھ ہیں، کیپسٹی پیمنٹ کا حل ہے کہ سیلز بڑھائیں۔ سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ کیپسٹی کا پیسہ جارہا ہے لیکن لوگوں کو بجلی نہیں مل رہی، آپ انڈسٹری کیلئے پیکیج لے آئیں، سردی میں 10 روپے کی بجلی بیچیں، سیلز بڑھے گی جس پرنیپرا عہدیدار نے موقف اختیار کیا کہ ڈسکو کی کامن شیئر ہولڈنگ نیپرا کے پاس نہیں آتی، نیپرا صرف کارکردگی کو ریگولیٹ کرتا ہے لیکن گورننس اور شیئرہولڈنگ ہمارے اختیار میں نہیں، سیلز کا کام ڈسٹری بیوشن کمپنیز کا ہے۔ بجلی کے بل بڑھنے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کراچی کے معروف تاجر زبیر موتی والا نے کہا کہ فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج اور گردشی قرضے کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے یونٹ کی قیمت جتنی بھی کم ہوجائے بل اتنا ہی رہتا ہے۔ اس طرح انڈسٹری نہیں چل سکتی، ہم متبادل نظام لگا لیں گے۔ آپ کے پاس 42 ہزار میگاواٹ کا سسٹم ہے جس میں سے 28 ہزار میگاواٹ فعال ہے، 14 ہزار میگاواٹ غیرفعال بجلی سسٹم کے بھی پیسے لیے جارہے ہیں۔زبیر موتی والا نے نیپرا حکام سے کہا کہ سولر صارفین کی تعداد بڑھنے کے بعد سے آپ بجلی استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں، تو پیک آور کا ٹیرف کس بات پر لے رہے ہیں، اب تو آپ کی پالیسی ہے کہ بجلی زیادہ استعمال کی جائے تاکہ آپ کی سیلز بڑھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جولائی سے ستمبر تک کے دوران 79 ارب روپے کا گردشی قرضہ بڑھ چکا ہے، یہ کہتے ہیں کہ سیلز کم ہوگئی ہیں تو قیمت بڑھا دیں، سارے بڑے ایکسپورٹرز نے اپنا بجلی کا انتظام کرلیا ہے، سب نے اپنے اپنے ونڈ انرجی سسٹم لگا دیے ہیں، ایک وقت آئے گاا ن سے کوئی بجلی نہیں خریدے گا۔سندھ اسمبلی کے ایم پی اے شارق جمال نے کہا کہ بچلی چوری کرنے والے اور بل نا بھرنے والے کی سزا بل بھرنے والے صارفین کو دی جارہی ہے، میرے حلقے کے 65فیصد علاقے میں لوڈشیڈنگ ہے، بل بھرنے والوں کا کیا قصور ہے۔انہوں نے کہا کہ نیپرا کو چاہیے کہ لوڈ شیڈنگ والے علاقوں میں عوامی عدالت لگائیں، نیپرا کو اختیار حاصل ہے، کے ای کو بھی طلب کریں اور عوام کو بھی بلائیں۔ایم پی اے شارق نے مزید کہا کہ آج ہی سندھ حکومت سے تین کروڑ لے کر ایک سرکاری اسپتال کو لوڈشیڈنگ سے استثنی دلوایا ہے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ پورے پاکستان میں کارڈ سسٹم ہونا چاہیے، بل بھرنے والے کو بجلی ملے ورنہ نا ملے، مختلف کمپنیز ہونی چاہئیں تاکہ مونوپلی ختم ہو۔اس موقع پر زبیر موتی والا نے بتایا کہ نیپرا نے کراچی میں لوڈشیڈنگ پر سروے کیا، دو سال ہوگئے، اس کی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ چیئرپرسن کمیٹی رانا محمود الحسن نے ہدایت دی کہ یہ رپورٹ دو دن میں کمیٹی کو ارسال کریں، ہم صوبائی اسمبلی کے موجودہ اراکین سے بھی شیئر کریں گے، کراچی چیمبر آف کامرس کو بھی بھیجیں گے۔ایم پی اے آصف موسی نے کہا کہ میرے حلقے میں 12گھنٹے لوڈشیڈنگ ہے، اس سے پانی کی فراہمی متاثر ہورہی ہے، پمپنگ اسٹیشنز کی بجلی بند ہوتی ہے، اس سب کی ذمہ دار کے الیکٹرک ہے لیکن نیپرا کا ان پر زور نہیں ہے۔ اس معاملے پر قانون سازی ہونی چاہیے کہ بل بھرنے والے صارفین کو نا بھرنے والے کے پیسے نا دینے پڑیں۔زبیر موتی والا نے بتایا کہ کے الیکٹرک کے پاس صارفین سے لیا گیا 46 ارب کا ڈپازٹ ہے۔ سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ سارے ایم پی ایز چیئرمین کمیٹی کو خط لکھیں۔