پاکستان جلد اپنی پہلی نیشنل ویمن انٹرپرینیورشپ پالیسی متعارف کروا رہا ہے؛ہارون اختر خان  

11

اسلام آباد، 19 جنوری(اے پی پی ):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوارہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان جلد اپنی پہلی نیشنل ویمن انٹرپرینیورشپ پالیسی متعارف کروا رہا ہے، جو خواتین کاروباریوں کو معیشتی منصوبہ بندی کے مرکز میں رکھے گی۔

جوائنٹ پاکستان–آذربائیجان ویمن انٹرپرینیورشپ ڈائیلاگ سے خطاب میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوارہارون اختر خان نے کہا کہ خواتین نے محدود وسائل کو مواقع میں تبدیل کر کے پاکستان کی معیشت میں ایک خاموش مگر طاقتور انقلاب برپا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں سے لے کر شہری مراکز تک خواتین کاروبار، صنعت اور تجارت میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں اور معاشروں و ویلیو چینز کو مضبوط بنا رہی ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے زور دیا کہ خواتین کی فعال شرکت کے بغیر قومی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ خواتین معاشرے کی معمار اور قومی معیشت کی اصل محرک ہیں۔

ہارون اختر خان نے تعلیم، صحت، کاروبار اور پبلک سروس میں خواتین کی نمایاں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خواتین نے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں اور قیادت کو ثابت کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خواتین کاروباریوں کو درپیش چیلنجز، جیسے مالی وسائل، ڈیجیٹل ٹولز اور بین الاقوامی منڈیوں تک محدود رسائی، کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کے باوجود خواتین صبر، تخلیقی صلاحیت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔

 ہارون اختر خان نے حکومت پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی معاشی شمولیت کو محض خواہش نہیں بلکہ قومی معاشی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف شمولیت بلکہ قیادت، وسعت اور عالمی مسابقت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار، اسمیڈا کے ذریعے خواتین کی قیادت میں کاروبار کو فعال طور پر مضبوط کر رہی ہے۔ اسمیڈا خواتین کاروباریوں کو تربیت، رہنمائی، مشاورت، مارکیٹ رسائی اور کاروباری ترقی کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ اسمیڈا کے تین سالہ منصوبے میں خواتین کے لیے خصوصی ہدفی اقدامات شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم ای فنانسنگ اسکیموں کو خواتین کاروباریوں کے لیے آسان بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ قرض اور ترقیاتی سرمایہ تک بہتر رسائی حاصل کر سکیں۔

 ہارون اختر خان نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل پالیسی میں خواتین کاروباریوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ پیداوار، برآمدات اور معیشتی مسابقت کے کلیدی محرک ہیں۔ خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت سے پیداوار، برآمدات اور مجموعی اقتصادی استحکام میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور آذربائیجان پاکستان جوائنٹ چیمبر کے درمیان تعاون کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ خواتین قیادت میں تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ٹیکسٹائل، زراعت، آئی ٹی، سیاحت اور تخلیقی صنعتوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ویمن چیمبرز اب صرف نمائشی ادارے نہیں، بلکہ اقتصادی اصلاحات اور ترقی کے فعال ادارے بن چکے ہیں۔ آج کی خاتون کاروباری رعایت نہیں بلکہ مساوی رسائی، منصفانہ مواقع اور برابری کا تقاضا کرتی ہے۔

  ہارون اختر خان نے حکومت کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لیے ایک سازگار، جامع اور عالمی معیار کا کاروباری ماحول فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار ترقی اور عالمی مسابقت کے لیے خواتین کی قیادت اور کاروباری شمولیت پاکستان کی اقتصادی حکمتِ عملی کے مرکز میں رہنی چاہیے۔