برلن، جرمنی 15 جنوری ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین، 14 تا 17 جنوری 2026 منعقد ہونے والے گلوبل فورم فار فوڈ اینڈ ایگریکلچر 2026 میں شرکت کے لیے برلن پہنچے۔ یہ فورم ہر سال جرمن وفاقی وزارتِ خوراک و زراعت کے زیرِ اہتمام منعقد کیا جاتا ہے، جس میں عالمی رہنما غذائی تحفظ، پائیدار زراعت، جدت اور موسمیاتی استحکام کے فروغ کے لیے تعاون پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔
فورم کے موقع پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے قازقستان کے نائب وزیر برائے زراعت، جناب عزت سلطانوف، سے ایک مثبت ملاقات کی، جس میں زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر گفتگو ہوئی۔ پاکستانی وفد نے ایسی عملی شراکت داریوں کی ضرورت پر زور دیا جو پیداوار میں اضافہ، موسمیاتی لچک اور ویلیو چین کی ترقی میں معاون ہوں، جبکہ قازقستان کی جانب سے متعلقہ اداروں اور تکنیکی سطح پر منظم تعاون کے ذریعے روابط کو وسعت دینے کی آمادگی ظاہر کی گئی۔
سلطانوف نے GFFA 2026 میں پاکستان کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے باہمی مفاد کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے میں قازقستان کی دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے مشترکہ ترجیحات کو عملی تعاون میں ڈھالنے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی روابط اور باقاعدہ تکنیکی سطح کے تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات میں ایسے ممکنہ شعبوں پر بھی غور کیا گیا جو زرعی نتائج میں بہتری، علم کے تبادلے اور جدید زرعی طریقوں میں قریبی تعاون کا باعث بن سکتے ہیں۔
ایک علیحدہ ملاقات میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کراپ ٹرسٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جناب اسٹیفن شمٹز، سے ملاقات کی، جس میں فصلوں کی تنوع کے تحفظ اور مؤثر استعمال پر تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کے زرعی شعبے میں فصلوں کی تنوع کے تحفظ اور بہتری، خصوصاً موسمیاتی مزاحم اور لچکدار فصلوں کی ترقی میں کراپ ٹرسٹ کے کردار کو سراہا، اور تحقیق و ترقی میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان میں کراپ ٹرسٹ کا دفتر قائم کرنے کی دعوت دی۔
اسٹیفن شمٹز نے موسمیاتی لچک کے حوالے سے پاکستان کی توجہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ فصلوں کی تنوع کا تحفظ طویل المدتی غذائی تحفظ، بہتر غذائیت اور شدید گرمی، خشک سالی، کیڑوں اور بیماریوں جیسے ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اداروں کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا، خصوصاً تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے، تحقیقی روابط بڑھانے اور جینیاتی وسائل کو کسانوں کے لیے قابلِ عمل حل میں ڈھالنے کے لیے مشترکہ کاوشوں پر زور دیا۔ انہوں نے پائیدار اثرات، صلاحیت سازی اور علم کی منتقلی کے لیے قومی سطح کے شراکت داروں کے ساتھ مضبوط تعاون کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ GFFA 2026 میں پاکستان کی شرکت موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت، جدت، پائیدار وسائل کے انتظام اور مضبوط بین الاقوامی شراکت داریوں کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کی عکاس ہے۔ پاکستان کا وفد فورم کے دوران مکمل اجلاسوں، موضوعاتی نشستوں اور وزارتی سطح کی ملاقاتوں میں شرکت جاری رکھے گا تاکہ قومی ترجیحات کو آگے بڑھایا جا سکے، عالمی بہترین تجربات سے استفادہ کیا جا سکے اور دوست ممالک و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔











