پاک چین شراکت داری اعتماد اور طویل المدتی تعاون کی علامت، دونوں ملکوں کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ رہے ہیں، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک

12

اسلام آباد، 28 جنوری (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاک چین شراکت داری اعتماد اور طویل المدتی تعاون کی علامت ہے، اور سی پیک کے تحت چینی سرمایہ کاری نے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کان کنی کے شعبے میں چین کے تعاون سے پاکستان میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے، اور دونوں ملکوں کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ رہے ہیں۔ مشترکہ مائننگ منصوبوں سے توانائی کے تحفظ اور روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، اور پاکستان اور چین کے درمیان معدنیات کے شعبے میں تعاون بہت اہمیت کا حامل ہے۔

وزیر پٹرولیم نے کہا کہ پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 ویں سالگرہ کے موقع پر اس فورم میں شرکت میرے لیے اعزاز ہے۔ دونوں ممالک نے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران باہمی اعتماد اور طویل المدتی تعاون پر مبنی ایک مضبوط شراکت داری قائم کی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کے مختلف شعبوں میں ٹھوس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت چینی سرمایہ کاری نے توانائی کے متنوع منصوبوں کے ذریعے پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کیا ہے، جس سے پاکستان کو توانائی کی کمی جیسے دیرینہ مسائل پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین ان ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کے معدنیات کے شعبے کی سٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کیا۔ چین عالمی سطح پر نایاب ارضی عناصر، کریٹیکل منرلز، کاپر، سمیلٹنگ اور ریفائننگ میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے، اور سیندک کاپر گولڈ اور دودر منصوبے پاک چین مائننگ تعاون کی کامیاب مثالیں ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تعاون مشترکہ منصوبہ جاتی کمپنیوں کے ذریعے مزید مضبوط ہو رہا ہے اور چین کی کان کنی کی سرگرمیوں نے پاکستان کی توانائی سلامتی کے استحکام اور دور دراز علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاونت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان 2010 سے جاری طویل اور نتیجہ خیز جیولوجیکل سروے کے تعاون نے پاکستان میں جیوکیمیکل سیمپلنگ مکمل کی، جس نے معدنیاتی علاقوں کی نشاندہی کے لیے ایک جدید بنیاد فراہم کی۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستانی کاروباری اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اب معدنیات کے شعبے میں داخل ہو رہی ہے اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے مواقع تلاش کر رہی ہے، جس سے شراکت داری کا ماحول مزید مستحکم ہو رہا ہے۔

انہوں نے حکومت پاکستان کی جانب سے سیاسی استحکام اور ذمہ دارانہ کان کنی سرمایہ کاری کے لیے مربوط معاونت کی فراہمی کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ توانائی کی منتقلی کے لیے تانبے اور دیگر اہم معدنیات کی عالمی طلب میں تیزی کے پیش نظر پاکستان اور چین خود کو عالمی معدنی سپلائی چین میں قابلِ اعتماد طویل المدتی شراکت دار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر اور حکومت پاکستان کی جانب سے تمام چینی کمپنیوں اور مندوبین کو پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 میں شرکت کی دعوت دی جو رواں سال 8 اور 9 اپریل کو منعقد ہوگا۔