اسلام آباد،20جنوری(اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ چاروں صوبوں کی ترقی سے پاکستان آگے بڑھے گا۔
یہ بات انہوں نے قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔
وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کو پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور سٹرٹیجک صوبہ قراردیتے ہوئے خیبرپختونخوا کی عوام کی غیرت ، جرأت و بہادری کو سراہا اور کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں ۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام خارجی جو پاکستان کے اندر اور باہر سے حملہ آور ہیں ان کا قلع قمع کرنے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔
وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2010 میں این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے پہل کی اور تمام صوبوں نے مل کر اپنے حصے سے ایک فیصد خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے مقابلے کےلئے دینے کا فیصلہ کیا، 15 برسوں میں 800 ارب روپے دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے خیبرپختونخوا کو دیئے گئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، بلوچستان کےلئے بھی پنجاب نے اپنے حصے سے ا ضافی وسائل فراہم کئے اور بلوچستان کے لئے 100فیصد اضافہ کیا گیا، یہ کوئی احسان نہیں ہے اگر پنجاب ترقی کرتا ہے اور باقی نہیں تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں ، حکومت کا ایمان ہے کہ چاروں صوبے ترقی کریں گے تو پاکستان ترقی کرے گا،بلوچستان کی 850کلومیٹر خونی سڑک کےلئے 400 ارب روپے مختص کئے ، بلوچستان سے ایک پائی نہیں مانگی ، صوبے کے کسانوں کےلئے سولر پینلز کی فراہمی کےلئے 75 ارب روپے کے منصوبے میں سے 50 ارب روپے وفاق نے دیئے جن سے آج ٹیوب ویلز چل رہے ہیں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں دانش سکولوں کا جال بچھایا جا رہا ہے،طلباء کو میرٹ پر لیپ ٹاپس اور وظائف دیئے جا رہے ہیں جس کےلئے فنڈ قائم کیا گیا ہے ، لاکھوں طلبہ و طالبات ان سے استفادہ کرکے تعلیمی میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں ، ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو زراعت کی اعلیٰ تعلیم اور تربیت کےلئے چین کی اعلیٰ یونیورسٹیوں اوراداروں میں بھجوایا جن میں آزاد کشمیرا ور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے گریجویٹس شامل ہیں،یہ تربیت یافتہ افراد زرعی اجناس کی پیداوار بڑھانے اور زرعی انقلاب برپا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 6 مئی کو بھارت نے پاکستان پر جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے 53 بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا تو پاکستان نے سخت جوابی کارروائی کی اور دشمن کے 7 لڑاکا طیارے مار گرائے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو وہ سبق سکھایا جس کی حالیہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور دشمن کو ہمیشہ یہ سبق یاد رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں فتح کے بعد گرین پاسپورٹ کو اب دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،ملک میں معاشی استحکام آگیا ہے اب پائیدار ترقی کےلئے اقدامات کررہے ہیں ، وہ وقت دور نہیں جب محنت، امانت ، دیانت اور ٹیم ورک کے ذریعے پاکستان کو اقوام عالم میں اس کا کھویا ہوا مقام دلائیں گے۔
ا فغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان ہمسایہ ملک ہے اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ، افغانستان کی ماضی اورحال کی حکومتوں نے ہماری میزبانی کی قدر نہیں کی ، بھائی چارے کے جواب میں بھائی چارے کا مظاہرہ نہیں ہوا اورجس طرح افغانستان نے جواب دیا وہ قابل افسوس ہے، افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی ہورہی ہے ، دوحہ اور چین میں افغان عبوری حکومت کے ساتھ بات چیت ہوئی، ان پر ٹی ٹی پی ، بی ایل اے سمیت بھارت کی آشیر باد سے کام کرنے والی پراکسیز کی کارروائیاں روکنے پر زور دیا لیکن انہوں نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا اور ہماری ایک نہیں مانی ، پھر ان کو سبق سکھایا، انہوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ بند کریں ، ہم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ادویات اور ضروری سامان نہیں روکا، اب افغان عبوری حکومت پر ہے کہ وہ پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا سمیت چاروں صوبوں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کررہے ہیں ، اس کےلئے مختلف پروگرام شروع کئے گئے ہیں ۔ وزیراعظم نے بتایا کہ چند روز قبل وزیراعظم صحت پروگرام کا دوبارہ اجراء کیا گیا ہے، یہ پروگرام 2016ء میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے شروع کیا تھا، اس پروگرام کے تحت وفاقی دارالحکومت ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکے عوام کے مفت علاج کے لئے 40 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔











