سکھر،20جنوری(اے پی پی): میئر سکھر اور ترجمان حکومتِ سندھ بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے ہیومن سیٹلمنٹ اینڈ کچی آبادی سید نجمی عالم سے سکھر میں ملاقات کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سکھر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کچی آبادیوں میں مقیم ہیں جو برسوں سے اپنی چھت کے قانونی اور مالکانہ حق سے محروم رہے، حکومتِ سندھ اس سنگین مسئلے کو سنجیدگی سے حل کر رہی ہے اور مرحلہ وار بنیادوں پر کچی آبادیوں کو قانونی حیثیت دے کر طے شدہ معیار پر پورا اترنے والی آبادیوں کے مکینوں کو بلا معاوضہ لیز اور مالکانہ حقوق فراہم کیے جائیں گے تاکہ شہری بلا خوف و خطر اور باعزت طریقے سے اپنے گھروں میں رہ سکیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے ہیومن سیٹلمنٹ اینڈ کچی آبادی سید نجمی عالم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ سندھ کچی آبادیوں کے مکینوں کو صرف رہائش نہیں بلکہ قانونی تحفظ، مالکانہ حقوق اور باوقار شہری شناخت فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو کچی آبادیاں طے شدہ قانونی و تکنیکی معیار پر پورا اتریں گی، انہیں بلا تاخیر نوٹیفائی کر کے لیز جاری کی جائے گی، جبکہ دیگر آبادیوں کے معاملات بھی مرحلہ وار حل کیے جائیں گے۔سید نجمی عالم نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ این او سیز، ریکارڈ کی تکمیل اور دیگر قانونی تقاضوں کے عمل میں تیزی لائی جائے تاکہ عوام کو برسوں سے درپیش مسائل کا فوری اور مستقل حل ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سکھر سمیت سندھ بھر میں کچی آبادیوں کے مکینوں کو بنیادی سہولیات، انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کی فراہمی حکومتِ سندھ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ، منتخب نمائندگان اور وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ پیش رفت کی جائے گی۔











