اسلام آباد، 08 جنوری (اے پی پی ): وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان کی معیشت میں مسلسل بہتری آئی ہے،جس کا اظہار بہتر میکرو اکنامک اشاریوں اور نجی شعبے کے ساتھ مضبوط رابطے سے ہوتا ہے۔
امریکن بزنس کونسل کے دفتر میں کونسل کے ساتھ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ تجارت نے کہا ہے کہ معاشی بحالی کا عمل جاری ہے اور آج کی صورتحال ڈھائی سے تین برس قبل کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کا حصہ ہے،جس کے تحت حکومت کو نظم و ضبط قائم کرنا اور مشکل فیصلے کرنا پڑے۔ ماضی میں سبسڈیز اور کراس سبسڈیز پر انحصار آسان تھا، تاہم آئی ایم ایف فریم ورک کے تحت متعدد پروگراموں کی ازسرِنو تشکیل اور مؤثر نفاذ ضروری قرار پایا۔
جام کمال خان نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے معاشی اشاریوں میں مجموعی طور پر بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شرحِ سود 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آ گئی ہے، جبکہ مہنگائی 38 فیصد سے گھٹ کر سنگل ڈیجٹس تک آ گئی ہے۔ اسی طرح زرمبادلہ کے ذخائر میں تین سے چار گنا اضافہ ہوا ہے اور اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی بھی بہتر رہی ہے۔
وزیرِ تجارت نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ان کی پوری ٹیم نجی شعبے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے قائم تمام مشترکہ ورکنگ گروپس کی سربراہی نجی شعبے کے نمائندے کر رہے ہیں، جو معاشی پالیسی میں اشتراکی طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔
اس موقع پر امریکن بزنس کونسل کے صدر اکرم ولی محمد نے وزیرِ تجارت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اجلاس کو مفید قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری مطمئن ہے کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
اکرم ولی محمد نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ڈیفالٹ کے خدشات عام تھے،تاہم اب ایسے خدشات موجود نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکن بزنس کونسل پاکستان کے معاشی مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہے۔











