آئی ایس ایس آئی میں فلسطین کے مستقبل پر بورڈ آف پیس کے تحت مذاکرہ

13

اسلام آباد، 6 فروری (اے پی پی): انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سنٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ کے زیرِ اہتمام ممتاز لیکچر سیریز کے تحت ‘‘فلسطین ایک دو راہے پر: بورڈ آف پیس کے تحت فلسطینی مقصد کا مستقبل ’’کے عنوان سے ایک عوامی مذاکرہ منعقد ہوا۔

تقریب کے مہمان خصوصی پارلیمانی سیکرٹری جنرل پاکستان افریقہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ محمد مکرم عمر محمد بن محمد تھے جبکہ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کلیدی خطاب کیا۔ ڈاکٹر آمنہ خان، ڈائریکٹر سنٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ اور سفیر خالد محمود، چیئرمین آئی ایس ایس آئی نے بھی اظہار خیال کیا۔

ڈاکٹر آمنہ خان نے کہا کہ عالمی غم و غصے کے باوجود اسرائیل فلسطینی عوام کے خلاف منظم تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطین کے مسئلے کا کوئی بھی قابلِ اعتماد حل انصاف، جوابدہی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کے حق خودارادیت پر مبنی ہونا چاہیے۔

محمد مکرم عمر نے کہا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا موقف تاریخی، اصولی اور غیر متزلزل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی بے عملی اور اسرائیلی بیانیے کی عالمی سطح پر ترویج نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس ٹرمپ انتظامیہ کا منصوبہ ہے جو دیرپا حل فراہم نہیں کرتا۔

سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ فلسطین کے معاملے پر عالمی رائے عامہ میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے اور مغربی ممالک میں اسرائیلی مظالم کے خلاف بیداری بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے فلسطینی کاز کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔

سفیر خالد محمود نے مسئلہ فلسطین کو عالمی ایجنڈے پر مضبوطی سے اجاگر رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا موقف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔ انہوں نے دو ریاستی حل کو مسئلے کا واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیا۔

تقریب میں سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور مذاکرہ سوال و جواب کے سیشن کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔