سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس، پانی کے تحفظ اور سیلاب سے نمٹنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا

10

اسلام آباد۔19فروری  (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیر صدارت اجلاس میں   پانی کے تحفظ، سیلاب سے نمٹنے، زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی، اور ادارہ جاتی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔قائمہ کمیٹی نے  مشاہدہ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی،خاص طور پر گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے  سیلاب کی شدت اور طویل المدتی پانی کی قلت دونوں میں اضافہ کیا ہے۔ قائمہ کمیٹی  نے زور دیا کہ قدرتی آبی گزرگاہوں اور نشیبی علاقوں میں  تجاوزات  پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جس سے سیلاب کے  نقصانات  بڑھ رہے ہیں  اور قومی برداشت کی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے۔ پنجاب میں اگرچہ آبپاشی نہروں کے کناروں سے  2,625  تجاوزات  ہٹائی گئی  ہیں، تاہم یہ مسئلہ مل گیر سطح پر برقرار ہے۔

کمیٹی نے آبی گزرگاہوں کو صاف کرنے اور زوننگ قوانین کے نفاذ کے لیے صوبوں کی جانب سےمدت مقرر کرنے کی  مربوط کارروائی پر زور دیا۔فلڈ پلاننگ کمیشن کی منظوری کے بغیر مبینہ طور پر تعمیر کیے گئے پلوں سمیت غیر قانونی انفراسٹرکچر کی تعمیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے  زیر کاشت علاقوں کے قریب واقع زمیندارہ بند کے انتہائی خطرے سے دوچار ہونے پر روشنی ڈالی اور وزارت کو ہدایت کی کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں کی زوننگ کے بارے میں جامع صوبائی ڈیٹا پیش کرے، جس میں ’’انتہائی خطرے‘‘ کی معیاری تعریف بھی شامل ہو تاکہ شواہد پر مبنی فیصلہ سازی میں مدد مل سکے۔ادارہ جاتی صلاحیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزارت آبی وسائل نے بتایا کہ اس کی 33 میں سے 15 منظور شدہ اسامیاں خالی ہیں۔قائمہ کمیٹی نے عملے کی اس کمی کو ایک ساختی کمزوری قرار دیا جو نگرانی اور عملدرآمد میں رکاوٹ ہے۔ کمیٹی  نے شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے بی پی ایس۔ 16 اور اس سے اوپر کی اسامیوں کا تفصیلی ڈیٹا طلب کیا۔زیرِ زمین پانی کے انتظام پر، کمیٹی نے کہا کہ پانی کی تجدید کی کم شرح، ناکافی ذخائر، اور ضرورت سے زیادہ پمپنگ، خاص طور پر بڑے شہری مراکز میں پانی کی حفاظت کے لیے ایک انتظامی  خطرہ ہے۔ قائمہ کمیٹی  نے سخت ریگولیٹری نفاذ اور پائیدار حل نکالنے کی پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا۔پاکستان کونسل برائے تحقیق آبی وسائل (پی سی آر ڈبلیو آر ) نے کمیٹی کو بتایا کہ پانی کے معیار کی سہ ماہی نگرانی جاری ہے اور اسلام آباد میں نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔کمیٹی نے تکنیکی اور انفراسٹرکچر اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ سپارکو سیٹلائٹ تصویروں کا استعمال کرتے ہوئے ناجائز قبضوں کی نشاندہی کر رہا ہے، جس سے نگرانی کی صلاحیت مضبوط ہو رہی ہے۔ واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے بریفنگ دی کہ سیلاب ٹیلی میٹری سسٹم کے لیے پی سی۔  I منظوری کے مراحل میں ہے، فی الحال 17 مقامات ابتدائی انتباہی ڈیٹا فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم، سیلاب کے دوران بہاؤ کا اندازہ لگانے میں تکنیکی حدود باقی ہیں، اور چیئرمین نے فوری اصلاح کی ہدایت کی۔پانی کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ دیامر بھاشا ڈیم (30 فیصد تکمیل) اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (21 فیصد تکمیل)، جو دونوں پی ایس ڈی پی کے تحت فنڈ کیے جا رہے ہیں، کو طویل المدتی ذخیرہ  کے طور پر اور توانائی کی حفاظت کے لیے تزویراتی طور پر اہم قرار دیا گیا۔قائمہ

کمیٹی نے مستقبل کے سیلاب کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ہنگول ڈیم کی تعمیر تیز کرنے کی سفارش کی اور آلودگی کے خدشات کو دور کرنے اور پانی کے ذخائر کے انتظام کا جائزہ لینے کے لیے سندھ میں بخارات بننے والے تالابوں کے دورے کی ہدایت کی۔اجلاس کےاختتام پر  چیئرمین نے زور دیا کہ پاکستان کا پانی کا بحران محض وسائل کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک چیلنج ہے جس کے لیے مربوط منصوبہ بندی، زمین کے استعمال کے ضوابط پر سخت عملدرآمد، مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت اور پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ آبی انتظام کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں سینیٹرز اسد قاسم اور پونجو بھیل نے بھی شرکت کی۔