قومی اسمبلی اجلاس :پاک افغان سرحد بندش کے بعد گیارہ سو پاکستانی طلبہ افغانستان سے واپس آئے، وفاقی وزیرطارق فضل چوہدری

8

اسلام آباد،10فروری(اے پی پی): قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔

پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر  طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان سرحد کی بندش کے بعد گیارہ سو پاکستانی طلبہ افغانستان سے واپس آئے ہیں۔

آج قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر طلبہ فضائی راستے سے واپس آئے۔

وزیر نے ایوان زیریں کو بتایا کہ نو سو سینتالیس طلبہ ابھی بھی جلال آباد اور کابل میں ہیں اور اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ طلبہ سرحد پر پھنسے ہوئے نہیں ہیں اور افغانستان میں ہمارا سفارت خانہ ان طلباء کو مکمل سہولت فراہم کر رہا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے افغانستان سے شروع ہونے والی دہشت گردی کے خدشات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام یہ یقین دہانی کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

آج ایوان میں تین بل بھی پیش کئے گئے۔ان میں تجارتی تنظیمیں (تیسری ترمیم) بل، 2026— دستی صفائی کی ممانعت اور صفائی کارکنوں کے تحفظ (ICT) بل، 2026 اور ریلوے کنیکٹیویٹی اینڈ ماڈرنائزیشن بل، 2026۔ شامل ہیں۔

چیئرمین نے بلوں کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیا۔کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل 2026 بھی آج ایوان میں پیش کیا گیا۔ایوان کا اجلاس اب کل گیارہ بجے ہوگا۔