اسلام آباد، 11 فروری )اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے قومی نصاب کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی نصاب کی اصلاح “اڑان پاکستان” کا کلیدی ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں علم کے ضابطے تبدیل ہو چکے ہیں اور پین لٹریسی کی جگہ ڈیجیٹل لٹریسی نے لے لی ہے، لہٰذا ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم آج بھی لارڈ میکالے کے 1835 کے نوآبادیاتی نظامِ تعلیم کو اپنائے ہوئے ہیں، جس کی بنیاد ذہنی اور ثقافتی غلامی کے تسلط کو قائم کرنا تھا۔ انہوں نے لارڈ میکالے کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام کا مقصد ایسے افراد تیار کرنا تھا جو رنگ و نسل میں مقامی ہوں مگر سوچ، فکر اور ثقافت میں انگریز ہوں۔
پروفیسر احسن اقبال نے زور دیا کہ نئے نصاب کے ذریعے قوم کو فکری، ثقافتی اور ذہنی غلامی سے آزاد کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نصاب میں ایسی اصلاحات لائی جائیں جو طلبہ میں رٹہ سسٹم کے بجائے تخلیقی سوچ، سوال کرنے کی صلاحیت اور تنقیدی شعور کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی معیشت کے تقاضوں کے مطابق ہنر، شہریت اور اخلاقیات کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے تیار کرنا ناگزیر ہے۔ ترقی یافتہ اقوام اپنی مادری زبان کے ذریعے علم و تحقیق کو فروغ دیتی ہیں، جبکہ ہم نے انگریزی کو اشرافیہ کے تسلط کے آلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نصاب کی تیاری صرف کراچی، لاہور اور اسلام آباد تک محدود نہ ہو بلکہ ملک کے طول و عرض کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ علامہ اقبال کو نصاب سے نکال کر قوم کو فکری انتشار میں دھکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق، جستجو، تفکر اور تجرباتی علم کو نصاب کی بنیاد بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے اپنے قومی ورثے اور شناخت سے آگاہی ناگزیر ہے۔











