موجودہ دور ڈیٹا کا زمانہ : سماجی و معاشی رجحانات کو مؤثر انداز میں سمجھنے کیلئے مستند اور بروقت اعداد و شمار ناگزیر ہیں، ادارہ شماریات پاکستان کے سی ایس او محمد سرفراز کی اے پی پی سے بات چیت

16

اسلام آباد، 27فروری (اے پی پی )ادارہ شماریات پاکستان کے   محمد سرفراز نے کہا ہے کہ موجودہ دور کو ڈیٹا کا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ سماجی و معاشی رجحانات کو مؤثر انداز میں سمجھنے کے لیے مستند اور بروقت اعداد و شمار ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر حکمرانی اور مؤثر پالیسی سازی کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اور ادارہ شماریات پاکستان اس سلسلے میں قومی سطح پر اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔

اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں ساتویں مردم و خانہ شماری کو ڈیجیٹل انداز میں مکمل کرنا ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے درست اور شفاف معلومات کے حصول میں مدد ملی۔ اسی طرح زرعی شماری اور دیگر قومی سرویز کے ذریعے معیشت کے مختلف شعبوں سے متعلق جامع معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ پالیسی ساز اداروں کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں سہولت ہو۔

انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں اہم مقام رکھتا ہے، اور جدید تقاضوں کے مطابق فصلوں کے رجحانات، زرعی پیداوار اور لائیو اسٹاک سے متعلق معلومات پالیسی سازی میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ضلعی اور علاقائی سطح پر دستیاب ڈیٹا حکومت کو وسائل کی مؤثر تقسیم اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیبر فورس سروے اور گھریلو معاشی جائزوں کے ذریعے ملک میں معاشی طور پر فعال آبادی، روزگار کی صورتحال اور ہنر مند افرادی قوت سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مستند اعداد و شمار کی بنیاد پر روزگار، زراعت اور دیگر شعبوں میں مربوط حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکتی ہے، جو پائیدار ترقی اور بہتر حکمرانی کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے۔