اسلام آباد، 25 فروری (اے پی پی): وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کلسٹرز کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ای او سمیڈا، ایڈیشنل سیکریٹری، بورڈ ممبران، چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایس ایم ای کلسٹرز کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس میں ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی، برآمدات کے فروغ، نمائشوں کے انعقاد اور برانڈنگ سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ معاونِ خصوصی نے کہا کہ پاکستان کا شہد اور زیتون کا تیل اعلیٰ معیار کے حامل ہیں اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے انہیں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ ایس ایم ای ایکسپو ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی اور آئندہ بھی مختلف شہروں میں باقاعدگی سے ایکسپوز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ مقامی صنعتوں کو اپنی مصنوعات کی نمائش اور مارکیٹنگ کے مزید مواقع میسر آئیں۔
نمائندگان نے کامیاب انعقاد پر حکومت اور سمیڈا کی کاوشوں کو سراہا اور سال میں متعدد بار ایکسپوز منعقد کرنے کی تجویز دی۔
معاونِ خصوصی نے وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق ایس ایم ای کلسٹرز کو باہم مربوط کرنے اور انہیں جدید سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “میڈ اِن پاکستان” مصنوعات کی مؤثر تشہیر کے ذریعے قومی پیداوار کو عالمی منڈیوں تک پہنچایا جائے گا۔
اجلاس میں سالٹ مائننگ کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سمیڈا اور ایس ایم ایز کے اشتراک سے جامع منصوبہ تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ زیتون کے تیل کے شعبے سے متعلق انتظامی امور کے حل اور برانڈنگ کے فروغ کے لیے بھی مربوط اقدامات کی یقین دہانی کرائی گئی۔
معاونِ خصوصی نے ہدایت کی کہ سمیڈا تمام کلسٹرز کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھے، مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرے اور جامع رپورٹ پیش کرے تاکہ ایس ایم ای سیکٹر کو مزید مضبوط اور بااختیار بنایا جا سکے۔











