وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم کا افتتاح

11

لاہور، 12 فروری (اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال پہلے یہاں خالی زمین تھی اور آج اللہ کے فضل و کرم سے پہلا سرکاری آٹزم سکول قائم ہو چکا ہے جسے دیکھ کر دلی خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے مطابق قائم اس آٹزم سینٹر میں ایک ہی چھت تلے آٹسٹک بچوں کے علاج، تعلیم اور بحالی کی تمام سہولتیں میسر ہیں، اور شاید دنیا بھر میں بھی اس نوعیت کی جامع سہولتیں ایک جگہ دستیاب نہ ہوں۔

 وزیراعلیٰ نے پاکستان میں پہلے سرکاری آٹزم سینٹر کے قیام پر آٹسٹک بچوں اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی معاون خصوصی ثانیہ عاشق نے اس منصوبے کی قیادت انتہائی محنت اور لگن سے کی جو قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثانیہ عاشق کو دیکھ کر بچوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں اور انہوں نے آٹسٹک بچوں کو اپنا سمجھ کر اپنایا۔ مریم نواز شریف نے بتایا کہ پنجاب بھر میں 20 ہزار سے زائد سپیشل بچوں کا علاج اور سرجریز کر کے انہیں نارمل زندگی کی طرف لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آٹزم سینٹر میں دستیاب سہولتیں کسی معجزے سے کم نہیں اور اس کارِ خیر میں حصہ لینے والے تمام افراد اجر کے مستحق ہیں۔

انہوں نے سینئر وزیر مریم اورنگزیب، صوبائی وزیر صہیب بھرتھ، سیکرٹری سہیل اشرف اور دیگر افسران کو مبارکباد اور شاباش دی۔

 اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے آٹسٹک بچوں اور ان کے والدین کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سپیشل بچے بہت خاص ہیں اور ان کے والدین کا صبر اور حوصلہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے ذاتی حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی بہن اسماء کا بیٹا ابراہیم آٹسٹک ہے اور خاندان نے قریب سے ان مسائل کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وسائل ہونے کے باوجود ڈھائی سال تک آٹزم کی تشخیص نہ ہو سکی، تاہم مسلسل محنت اور تربیت سے اب ابراہیم اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض معاشرتی رویوں میں آٹسٹک بچوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ بعض کو باندھ کر رکھا جاتا ہے، جبکہ غریب والدین کے بچے گلی محلوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اب ایسے والدین کا بوجھ بانٹ رہی ہے اور اس سے بڑھ کر خوشی کی بات ان کے لیے کوئی نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کا کام صرف سڑکیں اور عمارتیں بنانا نہیں بلکہ لوگوں کے مسائل حل کرنا بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آٹزم سینٹر میں سپیچ تھراپی، میوزک تھراپی، آرٹ تھراپی، آکوپیشنل تھراپی، سنسری ٹریننگ، ساؤنڈ پروف اسپیسز، اوپن ایئر جم اور ٹیکسچرڈ فلور جیسی جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ بچوں کو اعتماد کے ساتھ معاشرے میں جینا اور اظہار کرنا سکھایا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آٹسٹک بچوں کے علاج و بحالی کی سرگرمیوں کو ہر ضلع کی سطح تک توسیع دی جائے گی، خصوصی اساتذہ کی تربیت کی جائے گی اور والدین کی بھی باقاعدہ ٹریننگ ہوگی تاکہ وہ گھر پر درست تھراپی جاری رکھ سکیں۔

مزید برآں پنجاب بھر میں سپیشل بچوں کے لیے 70 خصوصی بسیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل کی بہتری کے لیے یہ بہترین سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محمد نواز شریف بھی اس ادارے کے قیام پر خوش ہیں اور انہوں نے آٹسٹک بچوں کے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ ریاست ہر مشکل میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سپیشل بچوں کی فلاح و بہبود کا یہ سفر رکے گا نہیں بلکہ مزید وسعت اختیار کرے گا۔