وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدرشوکت مرزائیوف کے درمیان مذاکرات ، دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال

7

اسلام آباد۔5فروری  (اے پی پی):پاکستان اور ازبکستان نے مشترکہ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں پر مبنی دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کو سراہتے ہوئے ازبکستان۔افغانستان۔پاکستان ریلوے منصوبہ کو وسطی ایشیا اور پاکستانی سمندری بندرگاہوں کے درمیان علاقائی روابط کا ایک اہم محرک قرار دیا ہے اور کان کنی، توانائی، دفاع، سیاحت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت کو 2 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

   وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو وزیراعظم ہائوس میں جمہوریہ ازبکستان کے صدر  شوکت مرزائیوف  کا خیرمقدم کیا۔وزیراعظم ہائوس آمد پر ازبکستان کے صدر کے اعزاز میں سرکاری استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں رہنمائوں کے درمیان انفرادی ملاقات ہوئی اور اس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔

 مذاکرات کے دوران رہنمائوں نے مشترکہ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں پر مبنی دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کو سراہا۔ گفتگو میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں بشمول تجارت و سرمایہ کاری، علاقائی روابط، تعلیم اور ثقافتی تبادلوں پر خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو دونوں ممالک کے لیے باہمی دلچسپی اور تشویش کا باعث ہیں۔

 دونوں رہنمائوں نے اعلیٰ سطح روابط میں اضافے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ ادارہ جاتی نظام کے تحت باقاعدہ اجلاسوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطح اسٹریٹجک کنسلٹیٹو کونسل (HLSCC) کے فعال ہونے کا خیرمقدم کیا جو قیادت کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر موثر عملدرآمد کو ممکن بنائے گی۔ یہ نظام وزیراعظم شہباز شریف کے فروری 2025ء میں تاشقند کے دورے کے دوران قائم کیا گیا تھا۔ دونوں رہنمائوں نے وزیراعظم کے تاشقند کے دورے کے بعد طے پانے والے روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ علاقائی روابط کے حوالے سے دونوں رہنمائوں نے روڈ، ریل، فضائی اور بحری تعاون کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کو سراہا۔

دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ازبکستان۔افغانستان۔پاکستان (UAP) ریلوے منصوبہ وسطی ایشیا اور پاکستانی سمندری بندرگاہوں کے درمیان علاقائی روابط کا ایک اہم محرک ہے۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان کثیرالجہتی تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں رہنمائوں نے کان کنی، توانائی، دفاع، سیاحت، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تجارت کو 2 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سرکاری مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد میں تاشقند اسٹریٹ اور بابر پارک کی یادگاری تختیوں کی نقاب کشائی کی۔

معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخطوں اور تبادلہ کی تقریب کے موقع پر دونوں رہنمائوں نے جمہوریہ ازبکستان کے صدر کے پاکستان کے سرکاری دورے کے نتائج سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ تجارت و سرمایہ کاری، کان کنی، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، تعلیم، تحقیق، بحری تعاون اور کھیلوں کے شعبوں میں مجموعی طور پر 28 معاہدات اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔

پاکستان اور ازبکستان کے دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں صدر   شوکت مرزائیوف  کی غیر معمولی خدمات اور خطے میں امن و ترقی کے فروغ کے لیے ان کی کوششوں کے اعتراف میں وزیراعظم نے انہیں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ آف فلاسفی اور اعزازی پروفیسر کا سرٹیفکیٹ عطا کیا۔

 دریں اثناء میڈیا سے گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ معاہدے اور مشترکہ اعلامیے پر دستخط پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔

 صدر   شوکت مرزائیوف  نے پاکستان میں قیام کے دوران فراہم کی گئی مہمان نوازی پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیراعظم کو آئندہ برس تاشقند میں ہونے والے پاکستان۔ازبکستان ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کے اگلے اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔