وزیر داخلہ محسن نقوی کا ترلائی امام بارگاہ کا دورہ ، دھماکے کی جائے وقوعہ کا معائنہ اور صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا

20

اسلام آباد۔6فروری  (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی دبئی کے دورے سے واپسی کے فوراً بعد سیدھے اسلام آباد میں ترلائی امام بارگاہ پہنچ گئے جہاں انہوں نے خودکش دھماکے کی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔

وزیر داخلہ کے ہمراہ وزیر مملکت طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا، چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا اور آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی بھی موجود تھے۔ تمام اعلیٰ حکام نے امام بارگاہ میں مغرب و عشاء کی نماز ادا کی اور تقریباً ایک گھنٹہ وہاں قیام کیا۔

اس موقع پر انہوں نے دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی، ملک میں امن و امان، مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے خصوصی دعا کی۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے امام بارگاہ کے منتظمین سے ملاقات کی اور دہشت گردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم نمازیوں اور عبادت گاہوں پر حملے کرنے والے خارجی سفاک درندے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کو غیر ملکی پشت پناہی حاصل ہے اور دشمن ہمارے امن و ترقی کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، لیکن پوری قوم ان کے خلاف متحد ہے۔وزیر داخلہ نے چیئرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ امام بارگاہ کی جلد از جلد مکمل بحالی کا کام شروع کیا جائے۔ آئی جی اسلام آباد کو واقعہ  کی مکمل تحقیقات کرنے اور ملوث دہشت گردوں کو فی الفور گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا۔

زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے حکام کو انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی تاکید کی۔وزیر مملکت طلال چوہدری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کا پاک سرزمین سے مکمل خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست معصوم شہریوں کے لہو کا حساب لے گی اور امن دشمنوں کو ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔