اسلام آباد۔4فروری (اے پی پی):پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی،تعلیم،کھیل، ریلوے، مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ترقی اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کےلئے مفاہمت کی متعدد یادداشتوں اورمعاہدوں پر دستخط کئے گئے ۔
بدھ کووزیراعظم ہاؤس میں پاکستان او ر قازقستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی دستاویزات کے تبادلوں کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر قاسم جومارت توکایووف بھی موجود تھے۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان کان کنی اور پٹرولیم ،اقوام متحدہ کے امن دستوں ، قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے ، میری ٹائم کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت،ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے ، کسٹمزکے شعبے میں تعاون سے متعلق معاہدے ،ریلوے کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت ،پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری کے شعبوں میں تعاون ،مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کےشعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت، صحت کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت ،اے پی پی اور قازقستان کے سرکاری ٹی وی کے درمیان تعاون کے معاہدے،موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں تعاون کے معاہدے،اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت ،مالیاتی نظم ونسق و بینکاری کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت ،ثقافت کے شعبے میں تعاون کے معاہدے، لاجسٹک کے شعبے میں بھی تعاون کے معاہدے ، ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں تعاون کے معاہدے، بندرگاہوں کے شعبے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کےلئے 19 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کئے۔
اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ اپنے بھائی صدر قاسم جومارت توکایووف اور ان کے وفد کا دورہ پاکستان پر خیرمقدم کرتے ہیں، یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو نئی جہت دینے کےلئے بہت اہم ہے،قازقستان کے کسی صدر کا 23 سال بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے،صدر قاسم جومارت توکایووف کے ساتھ تعمیری اور مثبت گفتگوہوئی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کو عملی شکل دینے کےلئے پرعزم ہیں،معاہدوں کے حقیقت کا روپ دھارنے سے معاشی اور ثقافتی تعاون میں اضافہ ہوگا،صدر قاسم جومارت توکایووف کےلئے نشان پاکستان کا اعزاز قریبی تعلقات کا عکاس ہے۔
انہو ں نے کہا کہ غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیرنو کےلئے بورڈ آف پیس اہم فورم ہے،پاکستان اور قازقستان غزہ بورڈ آف پیس کے بھی رکن ہیں،دعاگو ہیں کہ غزہ میں مستقل امن ہو اور خوشحالی آئے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ملکوں کےدرمیان تجارتی حجم میں اضافے کے بہت مواقع ہیں ،ایک سال میں دو طرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے،مشترکہ کوششوں سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے اہداف حاصل کریں گے،پاکستان اورقازقستان توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کو مزید فروغ دے سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں،شراکت داری کو فرو غ دیتے ہوئے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کےلئے پرعزم ہیں ،دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے دو طرفہ تعلقات پر دور رس اثرات مرتب کریں گے،پاکستان اور قازقستان کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری کا معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اس موقع پر قازقستان کے صدرقاسم جومارت توکایووف نے کہا کہ پاکستان قازقستان کا قابل اعتماد دوست اور سٹرٹیجک شراکت دار ہے،دونوں ملک مشترکہ اقدار و روایات کے امین ہیں،مشترکہ اعلامیہ اور معاہدے دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کےلئے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں جبکہ دفاع کے شعبے میں بھی پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت و معیشت کے شعبے میں تعاون کو فروغ مل رہا ہے،ایک ارب ڈالر کا تجارتی ہدف حاصل کرنے کےلئے مل کر آگے بڑھیں گے،پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کےلئے پرعزم ہیں،ٹرانزٹ ٹریڈ، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے استعمال پر بھی گفتگو ہوئی،دونوں ملکوں کے درمیان فضائی روابط بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
قازقستان کے صدر نے کہا کہ پیداواری شعبے میں پاکستان کو پروڈکشن پلانٹ لگانے کی دعوت دیتے ہیں،اسلامک فنانس میں بھی پاکستان کا اہم مقام ہے،اسلامک فنانسنگ کے شعبے میں تعاون پر اضافہ چاہتے ہیں ،سائنس ، تعلیم اور دوسرے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں،یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہے،قازقستان پاکستانی سرمایہ کاروں کو کاروبار کےلئے پرکشش مواقع کی فراہمی کےلئے پرعزم ہے۔











