کامن ویلتھ سیکرٹریٹ کی تکنیکی معاونت سے تیار کردہ پرائم منسٹر یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون سکیم کی امپیکٹ رپورٹ جاری

14

اسلام آباد، 24 فروری (اے پی پی ):چیئرمین وزیر اعظم یوتھ پروگرام  رانا مشہود احمد خان نے پرائم منسٹر یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون سکیم(پی ایم وائی بی اینڈ اے ایل ایس)  کی امپیکٹ رپورٹ جاری کی ہے جو کامن ویلتھ سیکرٹریٹ کی تکنیکی معاونت سے تیار کی گئی۔ اس موقع پر پرائم منسٹر یوتھ پروگرام (پی ایم وائی پی) کے تحت ایک خصوصی فِن ٹیک ڈویژن کے قیام کا بھی باقاعدہ اعلان کیا گیا۔

تقریب پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں میڈیا نمائندگان، پالیسی سازوں اور مالیاتی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئےچیئرمین وزیر اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ایجنڈا اب محض پالیسی سازی تک محدود نہیں رہا بلکہ قابلِ پیمائش عملی اقدامات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم، روزگار اور کاروباری مواقع کے شعبوں میں نوجوانوں کے لئےمکمل طور پر میرٹ اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام متعارف کرا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کا ایجنڈا اب ڈیلیوری، ڈیٹا، پالیسی فریم ورک اور مؤثر عملدرآمد پر استوار ہے۔ انہوں نے  کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور قائد محمد نواز شریف کی مسلسل سیاسی سرپرستی نے بچوں اور نوجوانوں میں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے اصلاحاتی عمل کو تسلسل اور وسعت فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی پی ایم وائی پی کا بنیادی ستون ہے اور آئندہ 18 ماہ کے اندر ملک بھر کی تمام جامعات کو ایک متحدہ ڈیجیٹل فریم ورک کے تحت لایا جائے گا۔ اس اقدام سے اعلیٰ تعلیمی نظام کو ڈیجیٹل طور پر مربوط کیا جائے گا، طلبہ کے لئے تعلیم سے روزگار تک منتقلی آسان ہوگی اور ڈیٹا پر مبنی گورننس کو فروغ ملے گا۔انہوں نے ڈیجیٹل یوتھ ہب کی پیشرفت کا بھی ذکر کیا جو پاکستان کا پہلا مربوط آن لائن پلیٹ فارم ہے اور نوجوانوں کے لئے دستیاب مواقع کو یکجا کرتا ہے۔سافٹ لانچ کے بعد اس پلیٹ فارم پر تقریباً 8 لاکھ رجسٹریشن ہو چکی ہیں، اس وقت پلیٹ فارم پر ایک لاکھ سے زائد ملازمتوں کے مواقع، 20 ہزار سے زیادہ سکالرشپس، تربیتی وسائل اور تصدیق شدہ پروگرامز دستیاب ہیں جبکہ آئندہ ہفتے اسے مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ وزیراعظم آفس، صوبائی وزرائے اعلیٰ کے دفاتر اور شراکت دار اداروں سے منسلک ڈیش بورڈز شفافیت اور احتساب کو یقینی بنائیں گے۔

رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ پی ایم وائی پی چار ستونوں  تعلیم، شمولیت، ماحولیات اور روزگار  پر مبنی ہےجن کے تحت لیپ ٹاپ سکیم، دانش سکولز اور پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی توسیع جیسے اقدامات کے ذریعے لاکھوں افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ انہوں نےاعلان کیا کہ پنجاب دانش اتھارٹی کو پاکستان دانش اتھارٹی میں اپ گریڈ کر دیا گیا ہے اور اگلے مرحلے میں ملک کی پہلی دانش یونیورسٹی قائم کی جائے گی تاکہ معیاری تعلیم تک مساوی رسائی کو فروغ دیا جا سکے۔نوجوانوں کی کاروباری صلاحیتوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2026-27 کے لئے پی ایم وائی بی اینڈ اے ایل ایس کے بجٹ کو 200 ارب روپے سے بڑھا کر 300 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ٹیئر  تھری قرضہ حد جو اس وقت 7.5ملین روپے ہے، کو بڑھا کر 20 سے 30 ملین روپے تک کرنے پر بھی غور جاری ہےجو نوجوان کاروباری افراد کی بڑھتی ہوئی ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے لیبر مارکیٹ اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لیبر فورس سروے اب ہر چار سال کے بجائے سالانہ بنیادوں پر منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ پالیسی سازی کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ کابینہ سے منظور شدہ قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت کم از کم 35 فیصد تک پہنچائی جائے اور نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں نوجوانوں کی زیر قیادت کاروباری اداروں کا حصہ کم از کم 10 فیصد ہو۔اوورسیزپاکستانیوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ خلیجی ممالک میں کم آمدن والے پاکستانی کارکنوں کے لئے ڈیجیٹل بینک اکاؤنٹس متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ ترسیلات زر کو باضابطہ ذرائع سے فروغ دیا جا سکے۔ وزارت خزانہ، کمرشل بینکس اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سےرواں سال ایک لاکھ سے 10لاکھ تک اکاؤنٹس کھولنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ طویل مدتی ہدف 4.4 ملین اکاؤنٹس کا ہے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے سالانہ ایک ارب ڈالر اضافی ترسیلات زر حاصل ہوں گی۔

خطاب کے اختتام پر رانا مشہود احمد خان نے میڈیا، مالیاتی اداروں اور تعلیمی شعبے کے نمائندگان پر زور دیا کہ وہ عملدرآمد کے مرحلے میں فعال شراکت دار بنے رہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں نوجوانوں کی ترقی میرٹ، مہارت اور مواقع کی بنیاد پر یقینی بنائی جائے گی جسے ادارہ جاتی اصلاحات اور ڈیجیٹل نظام کی معاونت نہ کہ صوابدیدی فیصلوں کی بنیاد پر حاصل ہوگی۔