اسلاموفوبیا کے بدلتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا عالمی سطح پر مشترکہ اقدام کا مطالبہ

9

اقوامِ متحدہ، 17 مارچ ( اے پی پی): پاکستان نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے اور تبدیل ہوتے ہوئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور دور اندیش عالمی حکمتِ عملی کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ رجحان محض انفرادی تعصب سے بڑھ کر ایک منظم اور گہرے طور پر جڑا ہوا امتیازی رویہ بن چکا ہے، جو دنیا بھر میں تقریباً دو ارب افراد کو متاثر کر رہا ہے۔

اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا مشترکہ انعقاد اقوامِ متحدہ کے الائنس آف سیولائزیشنز اور اقوامِ متحدہ میں ترکیہ کے مستقل مشن نے کیا، پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسلاموفوبیا اب صرف ایک مذہب کے خلاف تعصب نہیں رہا بلکہ یہ ایک پوری کمیونٹی کی بدنامی، شناخت کی تحقیر اور دشمنی کو معمول بنانے کا مظہر بن چکا ہے۔

انہوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا عوامی بیانیے، ادارہ جاتی طریقہ کار اور سیاسی گفتگو میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ مسلمانوں کو فطری طور پر مشکوک قرار دینے والے تصورات پالیسی سازی پر اثرانداز ہو رہے ہیں، جبکہ خوف اور تقسیم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے نتیجے میں عملی امتیاز جنم لیتا ہے، جس سے مسلمانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور امیگریشن نظام میں ان کی پروفائلنگ کی جاتی ہے۔

سفیر عاصم نے کہا کہ اسلاموفوبیا مذہبی شعائر اور علامات پر حملوں کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے، جن میں مساجد کی بے حرمتی، قرآنِ مجید کی توہین، اور مسلم خواتین کو ان کے لباس کی بنیاد پر نشانہ بنانا شامل ہے۔ انہوں نے بعض خطوں میں مسلم ثقافتی اور مذہبی ورثے کے مٹائے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسے پوری کمیونٹی کی تاریخ اور شناخت پر حملہ قرار دیا۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے کردار کی جانب توجہ دلاتے ہوئے، پاکستان کے مستقل مندوب نے خبردار کیا کہ آن لائن دنیا نفرت کے فروغ کا ذریعہ بن چکی ہے، جہاں غلط معلومات، سازشی نظریات اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کو تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کے مسلم مخالف اقدامات کے اثرات صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ معاشرتی ہم آہنگی کو کمزور کرتے، زینوفوبیا اور نسل پرستی کو ہوا دیتے اور کثیرالثقافتی معاشروں کی بنیاد یعنی باہمی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔

انہوں نے اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے عملی تجاویز بھی پیش کیں اور ایک اصولی و ہمہ جہتی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین پر مکمل عملدرآمد، نفرت انگیز جرائم سے نمٹنے کے لیے قومی قانونی و ادارہ جاتی ڈھانچوں کو مضبوط بنانا، اور مجرموں کا احتساب یقینی بنانا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ، رکن ممالک اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ آن لائن پلیٹ فارمز کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جا سکے اور نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے کو روکا جا سکے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ تعلیمی نظام میں تنوع کے احترام کو فروغ دینا اور بین الثقافتی و بین المذاہب مکالمے کو جاری رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھ کر ٹھوس اور اجتماعی اقدامات کرنا ہوں گے، جن میں اسلاموفوبیا کے خلاف اقوامِ متحدہ کے جامع ایکشن پلان کو جلد حتمی شکل دینا بھی شامل ہے۔

انہوں نے اس جدوجہد کی وسیع تر اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسلاموفوبیا کا مقابلہ صرف ایک مذہب کے دفاع کا معاملہ نہیں بلکہ ان عالمی اصولوں کے تحفظ کا تقاضا ہے جو اقوامِ متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں درج ہیں، اور جو ہر انسان کے لیے بلاامتیاز مذہب یا عقیدے کے، مساوات، وقار اور آزادی کی ضمانت دیتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وہ دنیا جو ہر مذہب کے وقار کا تحفظ کرتی ہے، دراصل انسانیت کے وقار کا تحفظ کرتی ہے اور انہوں نے  عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسی جامع معاشروں کی تعمیر کے لیے متحد ہو جہاں تنوع کو طاقت اور امن کی بنیاد سمجھا جائے۔