افغانستان میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کا گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے

13

اسلام آباد، 4 مارچ ( اے پی پی): افغانستان میں سویلین آبادی کو نشانہ بنانے سے متعلق گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ افغان طالبان رجیم کے دعوؤں کی بنیاد پر اقوام متحدہ کا امدادی مشن برائے افغانستان نے حقائق کے برعکس رپورٹ جاری کی، جسے بنیاد بنا کر افغان اور بھارتی میڈیا کی جانب سے بے بنیاد پروپیگنڈا جاری ہے۔

پاک فوج نے افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی بلااشتعال جارحیت کے ردعمل میں صرف عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔‎آپریشن غضب للحق کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی پریس بریفنگ میں واضح کر چکے ہیں کہ کارروائیاں مستند انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئیں اور صرف ملٹری و دہشتگرد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر، بٹالین ہیڈکوارٹر، ایمونیشن ڈپو، لاجسٹک بیسز اور چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ افواج پاکستان نے پیشہ وارانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کو ہدف بنایا۔

‎ماہرین کے مطابق عالمی ذرائع ابلاغ بھی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے پاکستان کے عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے مؤقف کی تائید کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاک فوج ایک پیشہ وارانہ فوج ہے جو شفافیت پر یقین رکھتے ہوئے کسی بھی سویلین آبادی کو نشانہ نہیں بناتی۔

‎ماہرین کے مطابق افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے درمیان فرق ختم ہو چکا ہے اور شلوار قمیض میں ملبوس سویلین، افغان طالب اور خارجی میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے، ایسے میں کسی بھی بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ پر سوال اٹھتے ہیں اور امکان ہے کہ افغان طالبان کے دعوؤں کو ہی بنیاد بنایا گیا ہو۔

‎ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ افغان طالبان ماضی میں بھی جھوٹا بیانیہ بنانے کے لیے غلط خبریں دے چکے ہیں، اس لیے ان کے دعوؤں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق افغان طالبان اپنی عوام کو جواب دینے میں ناکامی کے باعث ہمدردی حاصل کرنے کے لیے سویلین نقصان کا بیانیہ بنا رہے ہیں جبکہ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے ظاہری حلیے کی مماثلت کی وجہ سے من گھڑت دعوے کرنا آسان ہو جاتا ہے۔