ایچ ای سی اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی مضبوط ترقی کے لئے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے، پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر

11

اسلام آباد۔5مارچ  (اے پی پی):چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)پاکستان  پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ کمیشن ملک میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو قومی ضروریات اور عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لئے جامع اور مضبوط اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔

جمعرات  کو یہاں میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیشن اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور اس کی ہمہ جہت ترقی کے لئے ایک جامع منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ چیئرمین ایچ ای سی نے بتایا کہ ملک بھر کی جامعات کے انڈرگریجویٹ پروگراموں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا تین کریڈٹ آورز پر مشتمل کورس لازمی قرار دے دیا گیا ہے تاکہ مختلف شعبہ جات کے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی کے بنیادی تصورات سے آگاہ کیا جا سکے اور انہیں ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی نے آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن کے فروغ کے لئے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو نصاب کی تیاری، واضح تعلیمی اہداف اور مؤثر جائزہ نظام سے متعلق سفارشات مرتب کرے گی تاکہ جامعات کی تعلیم کو مزید بامقصد اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بتایا کہ جامعات میں تحقیق اور جدت کے فروغ کے لئے آفسز آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کو مضبوط بنانے کے لئے بھی ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو موجودہ نظام کا جائزہ لے کر تحقیق کے مؤثر انتظام، صنعت اور جامعات کے باہمی تعاون اور تحقیقی نتائج کی کمرشلائزیشن کے فروغ کے لئے تجاویز دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی دستاویزات کی تصدیق کے نظام کو مکمل طور پر آن لائن کرنے جا رہا ہے جس کے بعد درخواست گزاروں کو تصدیق کے لئے ذاتی طور پر ایچ ای سی دفاتر آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور تمام عمل ڈیجیٹل طریقے سے مکمل ہوگا۔

 چیئرمین ایچ ای سی نے بتایا کہ پاکستانی جامعات کی عالمی سطح پر درجہ بندی بہتر بنانے کے لئے ایک رینکنگ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو یونیورسٹیوں کو عالمی رینکنگ نظاموں جیسے یونیورسٹیز کی عالمی درجہ بندی ’’کیو ایس‘‘ اور ٹائمز ہائیر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں بہتر کارکردگی کے لئے رہنمائی فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بین الصوبائی ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لئے صوبائی سطح پر بھی اصلاحاتی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن میں صوبائی ایچ ای سیز، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹس، ایک خاتون وائس چانسلر، نجی شعبے سے ایک وائس چانسلر اور ایچ ای سی پاکستان کا نمائندہ شامل ہوگا۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بتایا کہ پی۔فائیو سٹریٹجک کنسورشیم کے قیام کے ذریعے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی ابھرتی ہوئی جامعات کو عالمی معیار کے اداروں میں تبدیل کرنے کے لئے مشترکہ تحقیق اور جدت کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ و ٹیکنالوجی، طبی تعلیم اور زراعت سمیت اہم شعبوں میں ڈگری پروگراموں کے معیار اور افادیت کا جائزہ لینے کے لئے بھی سیکٹر مخصوص تعلیمی کمیٹیاں  تشکیل دی گئی ہیں تاکہ ان پروگراموں کو عالمی معیارات اور قومی ترقی کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

 چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ میرٹ پر مبنی داخلوں کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈرگریجویٹ داخلوں کے ٹیسٹنگ نظام کو مزید شفاف اور معیاری بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جامعہ کے طلبہ کے معیار کا براہ راست اثر اس کے فارغ التحصیل طلبہ کے معیار پر پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نےسپیکر  قومی اسمبلی  اور چیئرمین سینیٹ  کو خط لکھا ہے کہ نئی جامعات کے قیام کے لئے قانون سازی سے قبل ایچ ای سی سے این او سی لینا لازمی قرار دیا جائے تاکہ انتظامی اور ریگولیٹری مسائل سے بچا جا سکے۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے جامعات کو ہدایت کی کہ خالی انتظامی آسامیوں کو جلد از جلد پُر کیا جائے تاکہ اداروں کا انتظامی نظام مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے جاری لیپ ٹاپ سکیم کے تحت اب تک 65 ہزار لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کئے جا چکے ہیں جبکہ باقی لیپ ٹاپ بھی جلد فراہم کر دیئے جائیں گے۔چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ کمیشن جامعات میں اطلاقی تحقیق اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے تاکہ تحقیقی کام کو عملی حل، جدت پر مبنی مصنوعات اور ملکی معیشت کے لئے نئے مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایچ ای سی میں مختلف سطحوں پر خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لئے سلیکشن بورڈ کے اجلاس بھی جاری ہیں۔نہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اقدامات پاکستان کی جامعات کو قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے اور عالمی علمی معیشت میں مسابقت کے قابل بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔