نیویارک، 31 مارچ (اے پی پی) : مینہیٹن یونیورسٹی کے بیس طلبہ پر مشتمل ایک وفد نے آج پاکستان مشن کا دورہ کیا جہاں انہیں اقوامِ متحدہ کے نظام میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کے کلیدی مؤقف کا جائزہ پیش کیا، خصوصاً اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالی۔
گفتگو کے دوران سفیر عاصم نے اقوامِ متحدہ کی اس منفرد اہمیت کو اجاگر کیا کہ یہ واحد فورم ہے جسے وسیع عالمی قانونی حیثیت اور اعتماد حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی موجودہ مشکلات کے باوجود اقوامِ متحدہ کا کوئی نعم البدل نہیں، کیونکہ یہی وہ پلیٹ فارم ہے جہاں عالمی برادری ایسے مسائل پر اجتماعی کارروائی کر سکتی ہے جنہیں کوئی ایک ملک تنہا حل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اب بھی ابھرتے ہوئے اور طویل المدتی چیلنجز، جیسے مصنوعی ذہانت، پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی ردِعمل کو مربوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں کثیرالجہتی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، اور اقوامِ متحدہ کی وسیع رکنیت اجتماعی حکمتِ عملی کو مسائل کے مؤثر حل کے طور پر دیکھتی ہے۔
سفیر عاصم نے اقوامِ متحدہ میں اصلاحات کے حوالے سے پاکستان کا نقطۂ نظر بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اصلاحاتی عمل 2024 میں منظور ہونے والے “پیکٹ فار دی فیوچر” سے رہنمائی حاصل کر رہا ہے، جبکہ سیکریٹری جنرل کی “یو این 80” پہل کا مقصد ادارے کو موجودہ تقاضوں کے مطابق مؤثر بنانا ہے۔
سلامتی کونسل کی اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نئے مستقل اراکین کے اضافے کی حمایت نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ خود حل نہیں بن سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل نشستوں میں اضافہ نہ صرف موجودہ عدم توازن کو دور نہیں کرے گا بلکہ تقسیم کو مزید گہرا کر کے ادارہ جاتی کمزوری میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان “یونائٹنگ فار کنسینسس” (UfC) گروپ کے تحت غیر مستقل نشستوں میں اضافے کا حامی ہے تاکہ کونسل کو زیادہ جمہوری، نمائندہ، مؤثر اور جوابدہ بنایا جا سکے۔گفتگو میں عالمی سلامتی اور ترقی سے متعلق اہم مسائل بھی زیر بحث آئے، جن میں بحری سلامتی، غذائی تحفظ، جبری نقل مکانی، پانی کی قلت، مہاجرین سے متعلق چیلنجز اور سرحد پار آبی وسائل کے اشتراک پر تعاون کی اہمیت شامل ہے۔
سفیر عاصم نے سرحد پار مسائل کے حل میں مؤثر کثیرالجہتی نظام کی اہمیت پر زور دیا اور ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقامی معلومات اور پائیدار طریقۂ کار کی ضرورت کو اجاگر کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ سیکریٹری جنرل کا انتخاب ایک نہایت اہم مرحلے پر ہوگا، جس کے لیے ایسی قیادت درکار ہے جو بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور پیچیدہ عالمی خطرات کا مؤثر مقابلہ کر سکے۔
اجلاس کے دوران پاکستان مشن کی کونسلر محترمہ صائمہ سلیم نے بھی پریزنٹیشن دی، جس میں انہوں نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سرگرمیوں اور امن مشنز سمیت مختلف شعبوں میں کثیرالجہتی تعاون کے فروغ میں پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالی۔
یہ ملاقات طلبہ کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہوئی، جس کے ذریعے انہوں نے پاکستان کے مستقل مندوب، اور مشن کے دیگر حکام سے براہِ راست تبادلۂ خیال کیا اور اقوامِ متحدہ کے کردار، اصلاحاتی ترجیحات، ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز اور ان پر پاکستان کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھا ہے۔











