سلامتی کونسل میں یوناما کے مینڈیٹ میں توسیع سے متعلق قرارداد کی منظوری پر پاکستان کا وضاحتی بیان

12

اقوام متحدہ ، 17مارچ(اے پی پی) :اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کہا ہے کہ پاکستان نے ابھی منظور کی گئی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے، جس کے تحت یو این اے ایم اے (یونائیٹڈ نیشن اسسٹنس مشن ان افغانستان)کے مینڈیٹ میں تین ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، جبکہ افغانستان اس وقت متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، خصوصاً دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات، انسانی حقوق کے مسائل، منشیات کی اسمگلنگ اور انسانی ہمدردی کی امداد میں کمی۔

ہم بطور چین کے کردار کو سراہتے ہیں اور تمام کونسل اراکین کے تحفظات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے اس کی مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم اس قرارداد کی متفقہ منظوری کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کرتا رہا ہے کہ افغانستان کو درپیش چیلنجز میں سب سے اہم چیلنج بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خطرے میں تیزی سے اضافہ ہے۔

طالبان حکومت کے اندر موجود بعض عناصر نہ صرف کئی دہشت گرد گروہوں کے ساتھ فعال تعاون کر رہے ہیں بلکہ انہیں ایک سازگار ماحول بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ان گروہوں میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ، داعش خراسان، القاعدہ اور ای ٹی آئی ایم شامل ہیں، جو افغانستان کے اندر بلا روک ٹوک سرگرمِ عمل ہیں اور پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف سرحد پار حملوں، اہم تنصیبات اور عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کے ذمہ دار ہیں۔

اس قرارداد کے ذریعے سلامتی کونسل نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جو بدستور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، اور طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اس کی تمام صورتوں اور مظاہر کے خلاف، جہاں کہیں بھی اور جس کی جانب سے بھی ہو، فعال، فوری، واضح اور ٹھوس اقدامات کریں۔

اس قرارداد میں سلامتی کونسل نے اس توقع کا بھی اظہار کیا ہے کہ ہتھیاروں اور گولہ بارود کے محفوظ اور مؤثر انتظام و انصرام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ ان کے دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں جانے کو روکا جا سکے۔