قومی اسمبلی اجلاس

12

اسلام آباد،  30مارچ  (اے پی پی): قومی اسمبلی  اجلاس   پیر کو  منعقد  ہوا۔  اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان ریلوے ٹرانسپورٹ کی صلاحیت کو پانچ گنا بڑھانے کے لیے اپنے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے پر کام کر رہا ہے۔

ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں ریلوے کے پارلیمانی سیکرٹری محمد عثمان اویسی نے کہا کہ 820 نئی اعلیٰ صلاحیت والی مال بردار ویگنیں اور 230 مسافر کوچز شامل کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد-تہران-استنبول ٹرین سروس اس سال کے آخر تک دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ٹریک تک رسائی اور ٹرمینل ڈویلپمنٹ کے ذریعے مال برداری کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے نے کراچی-لاہور اور کراچی-ملتان-فیصل آباد کے درمیان چلنے والی دو کارگو ٹرین آپریشنز کو کامیابی سے    نیلام کیا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں محمد عثمان اویسی نے کہا کہ مسافروں کی سہولت کے لیے ستاون بڑے کمرشل اسٹیشنوں پر ٹکٹ وینڈنگ مشینیں لگائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینک کارڈ کے ذریعے ادائیگی کی سہولت رواں مالی سال کے آخر تک دستیاب کر دی جائے گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت نیلسن عظیم نے کہا کہ حکومت نے ایچ آئی وی/ایڈز کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے ایک جامع، کثیر شعبوں کی حکمت عملی اپنائی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں ایچ آئی وی کے 84,421 رجسٹرڈ مریض رہ رہے ہیں۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ ملک بھر میں 98 مراکز کے نیٹ ورک کے ذریعے مفت اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی فراہم کی جا رہی ہے۔

ایوان میں پانچ بل  “دی الیکٹرسٹی (ترمیمی) بل، 2026″، “فوجداری قانون (ترمیمی) بل، 2026″، “مالیاتی ذمہ داری اور قرض کی حد (ترمیمی) بل، 2025″، “دی ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرسٹی پاور”، ترمیم 2020 (مالیات کی وصولی) (ترمیمی بل، 2025) پیش کئے گئے۔ چیئرمین نے بلوں کو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 2 اپریل بروز جمعرات دن 5 بجے تک  کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔