اسلام آباد،12مارچ (اے پی پی):پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے بحران کے پرامن اور مذاکراتی حل کےلئے سفارتی روابط دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو یہاں پریس بریفنگ میں مشرقِ وسطیٰ میں تین ہفتوں سے جاری کشیدگی، تشدد اور مسلح حملوں کے تناظر میں پاکستان کے موقف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران کے خلاف بلا جواز حملوں کی مذمت کی ہے، یہ حملے ایسے وقت میں کئے گئے جب سفارتی کوششیں ایک پرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل تک پہنچنے کےلئے جاری تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات پورے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاسکتے ہیں اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ترجمان نے ایران کی جانب سے برادر ممالک سعودی عرب، بحرین، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان تمام برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا جائے، یہ بلااشتعال حملے خلیجی برادر ریاستوں کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ان حالیہ حملوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو برادر ممالک ترکیہ اور آذربائیجان کو نشانہ بناکر کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہیں اور یہ خطے کو مزید کشیدگی کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ موجودہ تنازعہ کے دوران پاکستان مسلسل تین بنیادی نکات پر زور دیتا رہا ہے جن میں ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، ایک دوسرے کے خودمختار علاقوں میں طاقت کے استعمال سے گریز اور بین الاقوامی قانون سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کی پاسداری کرنا شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بحران کے پرامن اور مذاکراتی حل کےلئے سفارتی روابط دوبارہ بحال کئے جائیں۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اس تنازعہ کے دوران متحدہ عرب امارات میں دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے ہیں، ہم ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفارتی مشنز نے سوگوار خاندانوں کے ساتھ مل کر جاں بحق شہریوں کی میتوں کو پاکستان واپس لانے میں معاونت فراہم کی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کمیونٹی سروس کے حوالے سے ہم نے خصوصی اقدامات کرتے ہوئے خصوصاً ایران سے پاکستانی شہریوں کے انخلا اور خطے کے مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کی مدد کےلئے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سطح پر وزارتِ خارجہ کا کرائسس مینجمنٹ یونٹ چوبیس گھنٹے فعال ہے، بیرون ملک پاکستان کے سفارتی مشنز میں خصوصی سہولت ڈیسک قائم کئے گئے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو ویزا سہولت، لاجسٹکس اور سفری انتظامات میں مدد فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سفارتی مشنز میزبان حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ پاکستانی کمیونٹی کےلئے ضروری قونصلر سہولتیں یقینی بنائی جاسکیں۔ ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم نے کمیونٹی کی معاونت کے ان اقدامات کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کی ہیں، ہم نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی مکمل رہنمائی اور تعاون سے ان ہدایات پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی مشنز نے خصوصی موبائل ایپلی کیشنز، رجسٹریشن پورٹلز اور ہیلپ لائنز بھی شروع کی ہیں تاکہ بروقت رابطہ اور مدد فراہم کی جاسکے۔











