اسلام آباد، 26 مارچ (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید محمد عاشق حسین شاہ کرمانی کے ہمراہ زرعی شعبے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے اور اس کی جامع اصلاح کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کے سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں سیکرٹری زراعت پنجاب، سینئر حکام، زرعی ماہرین، سائنسدانوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ملک کی تقریباً 60 فیصد آبادی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس شعبے سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین ریولوشن کے بعد مضبوط زرعی بنیاد کے باوجود پاکستان کی پیداواری صلاحیت خطے کے دیگر ممالک خصوصاً بھارت کے مقابلے میں کم ہوئی ہے جہاں کم قابلِ کاشت رقبے کے باوجود زیادہ پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی شعبے کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے کیونکہ یہی شعبہ تیز ترین معاشی استحکام اور ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
عالمی تناظر پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ علاقائی تنازعات کے باعث دنیا بھر میں غذائی تحفظ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے تاہم کھاد کی پیداوار میں گیس کی قلت جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں جن میں جلد بہتری کی توقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر کھاد کی کمی خصوصاً بھارت جیسے ممالک میں اور خلیجی ممالک کی جانب سے خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب پاکستان کے لیے چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک موقع بھی ہے۔
وفاقی وزیر نے زرعی تبدیلی کے لیے حکومت کے وژن کا خاکہ پیش کرتے ہوئے اسے دوسرا زرعی انقلاب قرار دیا جو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال زرعی مشینری کے فروغ معیاری بیجوں کی دستیابی اور بعد از برداشت بہتر نظام کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں پہلے ہی کسانوں کی معاونت کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہیں جن میں ٹریکٹر سبسڈی اور تقریباً 50 ارب روپے کی کھاد سبسڈی شامل ہے۔
اجلاس کے دوران گندم کو قومی غذائی تحفظ کے لیے سب سے اہم فصل قرار دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے فی ایکڑ پیداوار میں 33 سے 40 فیصد اضافے کے لیے نیشنل ویٹ پروڈکٹیویٹی پلان تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا خاص طور پر معیاری اور تصدیق شدہ بیجوں کے استعمال کے ذریعے جبکہ زیر کاشت رقبے میں گزشتہ ایک دہائی سے جاری 22 ملین ایکڑ کی جمودی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنے کی ہدایت کی۔
کپاس کے شعبے کو ایک بڑا ساختی چیلنج قرار دیا گیا جہاں فرسودہ بیج ٹیکنالوجی موسمیاتی تبدیلی اور کیڑوں کے حملے پیداوار میں کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے نیشنل کاٹن سیڈ پروگرام کے فوری آغاز جدید بایوٹیکنالوجی بشمول جی ایم او بیجوں کے استعمال اور وفاقی سطح پر تحقیق کے بہتر رابطہ کاری نظام پر زور دیا۔
خوردنی تیل کے مسئلے کو ایک بڑا معاشی بوجھ قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ پیٹرولیم کے بعد درآمدات کا دوسرا بڑا شعبہ ہے اور پاکستان اس وقت تقریباً 80 فیصد ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کر رہا ہے۔ انہوں نے کینولا اور دیگر آئل سیڈز کی پیداوار بڑھانے اور زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا جس میں عالمی سطح پر نمایاں برآمدی صلاحیت موجود ہے۔
مکئی کی پیداوار میں اضافہ خوش آئند قرار دیا گیا تاہم اسے موسمی خطرات جیسے طوفانوں کے باعث غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ اجلاس میں مختصر قد والی ہائبرڈ اقسام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی تاکہ نقصان کے خدشات کم کیے جا سکیں۔ مزید برآں آلو جیسی فصلوں میں زائد پیداوار کے باعث قیمتوں میں کمی کے مسائل کی نشاندہی کی گئی جس کے لیے بہتر منصوبہ بندی فصلوں کی تنوع اور مارکیٹ کے مطابق حکمت عملی اپنانے پر زور دیا گیا۔ ابھرتی ہوئی فصلوں جیسے ارنڈی زیتون ہلدی اور دیگر آئل سیڈز پر بھی زور دیا گیا جن کی عالمی طلب بڑھ رہی ہے اور جو بنجر زمینوں کے لیے موزوں ہیں۔
صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید محمد عاشق حسین شاہ کرمانی نے کہا کہ خصوصاً پنجاب میں بعض فصلوں کی زائد پیداوار کے باوجود کمزور مارکیٹنگ نظام اور محدود برآمدی راستوں کے باعث کسانوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی سرحد کی بندش اور ایران کے ساتھ تجارتی راستوں میں رکاوٹوں نے برآمدات کو متاثر کیا ہے جس کے باعث کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے متبادل برآمدی منڈیوں کی تلاش اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کسانوں کو بہتر معاوضہ مل سکے۔
اجلاس میں اس بات کا بھی مشاہدہ کیا گیا کہ کسانوں کے فیصلے زیادہ تر منافع کے رجحانات کے تابع ہوتے ہیں جہاں زیادہ قیمتوں پر کاشت میں اضافہ اور نقصان کی صورت میں اگلے سیزن میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی پالیسیوں کو قومی ترجیحات کے مطابق منڈی کے اشاروں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ پائیدار زرعی ترقی ممکن ہو سکے۔
اجلاس میں سائنسی بنیادوں پر فصلوں کی زوننگ متعارف کرانے پر بھی زور دیا گیا جسے منافع اور مارکیٹ کی طلب سے منسلک کیا جائے تاکہ زائد پیداوار اور قلت کے چکروں سے بچا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے مالی مراعات اور سبسڈیز فراہم کرنا ضروری ہوں گی تاکہ کسانوں کو آئل سیڈز اور دیگر ترجیحی فصلوں کی طرف راغب کیا جا سکے۔ انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور تحقیقی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کو بھی ناگزیر قرار دیا۔
وفاقی وزیر نے واضح اہداف مقرر کرتے ہوئے خریف فصلوں کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ گندم کی پیداوار میں خاطر خواہ بہتری اور برآمدات میں اضافے کے لیے تنوع اور ویلیو ایڈیشن پر زور دیا۔
اپنے اختتامی کلمات میں رانا تنویر حسین نے تمام صوبوں ماہرین اور متعلقہ فریقین کو ہدایت کی کہ وہ گندم کپاس اور آئل سیڈز سمیت ترجیحی شعبوں پر ٹھوس اور قابل عمل تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت تمام قابل عمل منصوبوں کے لیے مالی اور تکنیکی معاونت سمیت ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ زرعی شعبے کی مؤثر تبدیلی کو یقینی بنایا جا سکے۔











