اسلام آباد، 31 مارچ (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
ادویات کی بڑھتی قیمتوں کے حوالے سے ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو افسر نے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر کمیٹی کو بریفنگ دی اور 14 دن کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مارکیٹ میں دستیاب ادویات کے 50 فیصد حصے پر مشتمل ایک سروے بھی کیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے رکن کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کی تائید کرتے ہوئے ہدایت دی کہ آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ پیش کی جائے۔
کمیٹی کو مختلف ایشیائی ممالک میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کے داخلہ ٹیسٹ کے معیار سے بھی آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھا جائے۔
وفاقی وزیر برائے صحت، مصطفٰی کمال نے بتایا کہ بعض غیر ملکی ممالک میں انٹرمیڈیٹ میں ناکام طلبہ بھی طبی اداروں میں داخلہ حاصل کر لیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی ڈگری رکھنے والے گریجویٹس میں سے ایک فیصد سے بھی کم این آر ای امتحان پاس کر پاتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ یہ شعور پیدا کیا جائے کہ ہر فرد طبی پیشہ اختیار نہیں کر سکتا۔
صدر پی ایم ڈی سی نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ سال کچھ نشستیں خالی رہ گئی تھیں جنہیں ایک مخصوص فارمولے کے تحت پر کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے سفارش کی کہ رواں سال بھی ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی خالی نشستیں، بشمول اب تک خالی رہ جانے والی نشستیں، اسی فارمولے کے تحت پر کی جائیں۔
کمیٹی نے بعض اداروں میں نشستوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ مخصوص شعبہ جات میں نشستوں میں اضافہ بیرون ملک طبی تعلیم کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے زیر غور ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تین سال کے لیے نشستوں میں اضافے پر حد مقرر کر دی گئی ہے جس کے تحت کوئی بھی کالج اپنی گنجائش میں اضافہ نہیں کر سکے گا۔
وفاقی وزیر نے مزید آگاہ کیا کہ طویل کوششوں کے بعد نرسنگ کونسل ایکٹ نافذ ہو چکا ہے اور صدر و نائب صدر کے انتخابات بھی منعقد ہو چکے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے وزیر کی کاوشوں کو سراہا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہمارے بہت سے طلبہ تعلیم کے لیے مختلف ایشیائی ممالک کا رخ کرتے ہیں، انہیں پاکستان میں پی ایم ڈی سی سے تسلیم شدہ کالجوں میں مواقع فراہم کیے جائیں اور سرکاری نشستوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔ سرکاری و نجی کالجوں کو مضبوط بنا کر معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ قیمتی زرمبادلہ محفوظ رہ سکے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ طلبہ کے بیرون ملک جانے سے سالانہ تقریباً 800 ملین ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ چیئرمین نے زور دیا کہ پاکستان میں سہولیات کو بہتر بنایا جائے اور ایم ڈی کیٹ کے داخلہ معیار کو بین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ طلبہ ملک کے اندر ہی تعلیم حاصل کر سکیں اور قومی زرمبادلہ کا تحفظ ممکن ہو سکے۔











