وزیراعظم شہبازشریف کی زیرِ صدارت کیش لیس اکانومی کے فروغ کا جائزہ اجلاس منعقد

13

اسلام آباد ،3 مارچ ( اے پی پی) : وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت  کیش لیس اکانومی کے فروغ پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو وسعت دینے پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں معاشی ٹیم اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تنخواہوں، پنشنز اور وینڈرز کو ادائیگیوں کو راست (RAAST) کے ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کے اقدامات کو سراہا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے جنوری 2026 تک وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے راست کے ذریعے 1.6 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں کیں، جس پر وزیرِ اعظم نے وزارت خزانہ کی ٹیم کی ستائش کی۔

اجلاس کو رمضان ریلیف پیکیج پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔  اس کے علاوہ  بتایا گیا کہ اب تک 71 فیصد مستحق افراد کو امدادی رقوم فراہم کی جا چکی ہیں، جس پر وزیرِ اعظم نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس رمضان کے 12ویں دن تک صرف 24 فیصد مستحقین کو رقوم فراہم ہو سکی تھیں، جبکہ رواں برس خصوصی ہدایات اور بروقت اقدامات کے باعث یہ شرح 71 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔

‎اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں ڈیجیٹل بینکنگ سے استفادہ کرنے والے افراد کی تعداد 127 ملین سے بڑھ چکی ہے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری ادارے شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق بلز پر QR کوڈ کی سہولت فراہم کریں تاکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، BISP، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ اداروں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایکوسسٹم سے متعلق ڈیش بورڈ بھی پیش کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے مقررہ اہداف کو معینہ مدت میں یقینی بنایا جائے۔