لاہور، 17 اپریل (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ اسلامی معاشی نظام محض مالیاتی ڈھانچہ نہیں بلکہ انصاف، اخلاقیات، شفافیت اور سماجی فلاح کے اصولوں پر مبنی ایک مکمل نظام ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایم ٹی) میں منعقدہ اسلامی اکنامکس، فنانس اینڈ بینکنگ کی چھٹی عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلامی معاشی نظام دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتا ہے اور ایسا متبادل معاشی ماڈل پیش کرتا ہے جو استحصال کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے حقیقی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جب عالمی معیشت عدم استحکام اور عدم مساوات جیسے چیلنجز سے دوچار ہے، اسلامی مالیاتی نظام ایک ایسا ماڈل فراہم کرتا ہے جو معاشی سرگرمیوں کو اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ جوڑتا ہے۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان ایک اہم مسلم ملک ہونے کے ناطے اسلامی مالیاتی اداروں کو مضبوط بنانے اور ان کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی ذمہ داری رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خورشید احمد انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اکنامکس اینڈ فنانس (KAIIF) اور یو ایم ٹی کا مقصد اسلامی معیشت و مالیات کے میدان میں تحقیقی سرگرمیوں، عملی تربیت، پالیسی سازی، تدریس اور تجارتی مشاورت کو فروغ دینا ہے تاکہ ایک اقدار پر مبنی اور منصفانہ مالیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم رکن ہے اور اس کی درست ادائیگی اور مؤثر استعمال نہایت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زکوٰۃ کے نظام پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے، کیونکہ ایک مؤثر نظام واضح مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اسلامی معاشی اصول ہمارے دین اور اقدار سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور معاشی سرگرمیوں میں انصاف کا قیام اور استحصال کا خاتمہ نہ صرف معاشی بلکہ مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلامی معاشی نظام کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کانفرنس میں ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کے پیغام کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان برادرانہ تعلقات موجود ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی پاکستان کے مضبوط روابط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن کے فروغ میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو دنیا نے تسلیم کیا ہے، اور پاکستان نے ایک بڑے تنازع کو روکنے میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے خطے اور دنیا میں امن کے قیام میں حصہ ڈالا۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں کی معاونت اور مضبوطی کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی نظام میں سود کی کوئی گنجائش نہیں اور وہ ہمیشہ سود کے مخالف رہے ہیں۔ وزارت مذہبی امور کا بنیادی مقصد اسلامی ماحول اور معاشرے کا فروغ، اسلامی معاشی نظام کا نفاذ اور اس کی ترویج ہے۔
انہوں نے کہا کہ محققین، ماہرین اور تعلیمی اداروں کا کردار اسلامی معاشی نظام کو مستحکم بنانے میں انتہائی اہم ہے اور انہیں اس سلسلے میں بھرپور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
اس موقع پر یو ایم ٹی کے ریکٹر ڈاکٹر آصف رضا، اسلامک فنانس گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر غلام محمد عباسی، ایف پی سی سی آئی کے ذکی اعجاز اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔











