اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا مؤقف: جی سی سی کے ساتھ تعاون ناگزیر، خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور

16

نیویارک، 02 اپریل ( اے پی پی):  اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے خلیج تعاون کونسل (خلیج تعاون کونسل) کے ساتھ مضبوط شراکت داری کو عالمی امن کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے بحرین کو کونسل کی صدارت سنبھالنے پر مبارکباد دی اور جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی کی شرکت کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اور علاقائی تنظیموں کے درمیان تعاون، جیسا کہ منشور کے باب ہشتم میں درج ہے، بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

پاکستان نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں درپیش مسائل،خصوصاً فلسطین، یمن، شام اور لبنان کے حل میں جی سی سی ایک اہم ستون کے طور پر ابھری ہے، اور اس کے رکن ممالک نے سفارت کاری، انسانی امداد اور تنازعات کے حل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی کی قرارداد 79/295 کا حوالہ دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ اور جی سی سی کے درمیان مزید قریبی تعاون، اعلیٰ سطحی روابط اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جی سی سی ممالک کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، جو ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی بنیادوں پر قائم ہیں۔

‎خطاب میں خلیجی ممالک پر حملوں کی سخت مذمت کی گئی اور انہیں “ناقابلِ قبول” قرار دیا گیا۔ پاکستان نے GCC ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی برقرار رکھنے پر زور دیا۔

پاکستانی مندوب نے 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والے حملوں کے بعد خطے میں بڑھتی کشیدگی کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے بھی خطرہ ہے۔

‎انہوں نے شہری تنصیبات جیسے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور توانائی کے مراکز پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کو اولین ترجیح قرار دیا۔‎پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان حالیہ ملاقات میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا۔

مزید برآں، چین کے ساتھ ایک پانچ نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا گیا، جس میں فوری جنگ بندی، امن مذاکرات، شہریوں کا تحفظ اور بحری سلامتی کی بحالی شامل ہے۔آخر میں پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مکالمے، سفارت کاری اور باہمی تعاون کے ذریعے خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔