اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا بلقان میں امن کے فروغ کے لیے مسلسل مذاکرات پر زور

25

اقوامِ متحدہ، 10 اپریل ( اے پی پی):  پاکستان نے جمعرات کے روز بلقان میں امن و استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے بلغراد اور پرشٹینا کے درمیان تعلقات کی معمول پر بحالی کے لیے مسلسل مذاکرات، تحمل اور موجودہ معاہدوں پر مکمل عملدرآمد پر زور دیا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اقوامِ متحدہ کے عبوری انتظامی مشن برائے کوسووو  پر بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان کی دیرینہ خواہش ہے کہ بلقان میں امن و استحکام قائم ہو اور وہ خطے کے تمام عوام کی فلاح، خوشحالی اور ترقی کے لیے پرعزم ہے۔

سفیر جدون نے گزشتہ سال مقامی اور قانون ساز انتخابات کے پُرامن انعقاد کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ منتخب نمائندے آئینی عدالت کی جانب سے دی گئی مدت کے اندر صدارتی انتخابات کے انعقاد کے لیے دانشمندی، تعاون اور تعمیری انداز میں کام کریں گے۔

خطے کو درپیش پیچیدہ چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ صرف مستقل اور بامعنی مذاکراتی عمل ہی پائیدار امن اور استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے سیاسی بیان بازی میں کمی اور 2013 کے برسلز معاہدے اور 2023 کے اوہریڈ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر مکمل اور غیر مشروط عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے بلغراد اور پرشٹینا کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے یورپی یونین کی کوششوں کو سراہا اور حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جن میں لاپتہ افراد سے متعلق مشترکہ کمیشن کا سہ فریقی اجلاس اور قانونِ غیر ملکیوں پر اتفاق شامل ہیں۔ انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ اس پیش رفت کو آگے بڑھائیں، ایسے یکطرفہ اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی کو ہوا دیں، اور بقایا مسائل کے حل کے لیے تعمیری تعاون جاری رکھیں۔

سفیر جدون نے خبردار کیا کہ تقسیم پیدا کرنے والی بیان بازی، نفرت انگیز تقاریر اور بین الجماعتی کشیدگی ماضی میں خطے کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنی ہیں اور ایسے رجحانات کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مذہبی مقامات کی بے حرمتی کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا اور کسی بھی مذہب یا اس کے ماننے والوں کے خلاف ایسے اقدامات کی بھرپور مذمت کی۔

انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور مختلف برادریوں کے درمیان بقائے باہمی، رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ میں  کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایبر-لیپینک اور بانجسکے حملوں کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ٹھوس پیش رفت اعتماد کو مضبوط بنائے گی، اور اس مقصد کے لیے دونوں جانب سے سنجیدہ تعاون پر زور دیا۔

سفیر جدون نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے سربیا اور کوسووو دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور وہ ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال بلقان کا پُرعزم حامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کو فوری طور پر بامعنی مکالمے، باہمی احترام، حساسیتوں کے ادراک، تمام عوام کے سماجی و معاشی حقوق کے تحفظ اور پُرامن بقائے باہمی و بین الجماعتی ہم آہنگی کے فروغ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اشتعال انگیزی کے بجائے صبر و تحمل کا راستہ اختیار کریں تاکہ بلقان میں دیرپا امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔