نیویارک ، 21اپریل(اے پی پی): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے افریقی ماڈل پر غور کے حوالے سے انٹرگورنمنٹل مذاکرات (آئی جی این) کے چوتھے اجلاس میں بیان میں کہا ہے کہ پاکستان خود کو Uniting for Consensus (یو ایف سی )گروپ کی جانب سے اٹلی کے پیش کردہ بیان کے ساتھ منسلک کرتا ہے۔ ہم سیرا لیون کے مستقل مندوب مائیکل عمران کانوکی جانب سے افریقی ماڈل کی جامع اور واضح پیشکش کو سراہتے ہیں۔
پاکستان خودمختار برابری کے اصول پر پختہ یقین رکھتا ہے، جو کہ اصلاحاتی مباحثے میں ایک زیادہ جمہوری، شفاف، نمائندہ اور جوابدہ سلامتی کونسل کے قیام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان مسلسل اس بات کا اعادہ کرتا رہا ہے کہ افریقہ کا مطالبہ، جیسا کہ ایزولوینی اتفاقِ رائے (Ezulwini Consensus) اور سرتے اعلامیہ (Sirte Declaration)میں بیان کیا گیا ہے، کسی مراعات کے حصول کی کوشش نہیں بلکہ انصاف اور مساوات کی خواہش ہے۔ افریقہ کا مستقل نشستوں کا مطالبہ پورے خطے کے لیے ہے، اور اس لحاظ سے یہ دیگر تجاویز سے مختلف ہے، جو انفرادی ریاستوں کے لیے مستقل رکنیت کی خواہاں ہیں۔
پاکستان نئی مستقل نشستوں کے قیام کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ یہ جمہوریت، جوابدہی اور شفافیت کے عالمی طور پر تسلیم شدہ اصولوں کے منافی ہے۔ ہماری پالیسی ان اصولوں پر مبنی ہے جو ایسی اصلاحات کے ذریعے سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری بنانے کی کوشش کرتی ہیں جو اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کے مفادات اور امنگوں کی عکاسی کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مزید منتخب ارکان کا اضافہ علاقائی نمائندگی اور ملکیت کے احساس کو مضبوط کرے گا، اور اس طرح کونسل کو زیادہ جواز اور اعتبار حاصل ہوگا۔
افریقہ کے ساتھ روا رکھی گئی ناانصافی کا ازالہ محض کسی رعایت کا معاملہ نہیں بلکہ اصول کا تقاضا ہے۔ پاکستان ایک ایسے منصفانہ، جمہوری اور نمائندہ سلامتی کونسل کے قیام کے لیے افریقہ اور تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے جو اقوام متحدہ کے منشور کے وعدے کی حقیقی عکاسی کرے اور ہمارے زمانے کی زمینی حقائق کے مطابق ہو۔











