اسلام آباد،07اپریل (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر بجلی کی فراہمی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں ملکی برآمدات کی پیش رفت کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا مناسب حصہ ہونے کی بدولت توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔ انہوں نے بیٹری توانائی سٹوریج سسٹم کے منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے ذرائع ہی بجلی کے شعبے کا مستقبل ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو قومی سطح پر مزید وسعت دینے کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔
برآمدات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور چیلنجز کے باوجود خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات جاری ہیں۔ انہوں نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کو سمندری راستے سے ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے بحری جہازوں کا انتظام کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کامیاب سفارتکاری کے ذریعے خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات کی رسد یقینی بنائی گئی۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس وقت بجلی کی کل پیداوار میں 55 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع جبکہ 45 فیصد حصہ حیاتیاتی ایندھن پر مشتمل ہے۔ مزید بتایا گیا کہ آئندہ دس برسوں میں قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار کو 90 فیصد تک اور حیاتیاتی ایندھن سے پیداوار کو 10 فیصد تک محدود کرنے کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے۔
بریفنگ میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر ملکی برآمدات کے لیے سہولت پیدا کرنے کی غرض سے خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری ہیں جبکہ ان ممالک میں پاکستانی زرعی اجناس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء ڈاکٹر احسن اقبال، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، سردار اویس احمد لغاری، جنید انور چوہدری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی ہارون اختر اور طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔











