بڑھتی آبادی، نظام صحت پر دباؤ؛ پاکستان کو سک کیئر سے ہیلتھ کیئر کی طرف جانا ہوگا،مصطفی کمال

9

اسلام آباد، 27 اپریل (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی آبادی کے پیش نظر صحت کے نظام پر غیر معمولی دباؤ ہے اور صرف ہسپتالوں اور ڈاکٹروں میں اضافہ اس مسئلے کا حل نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحت اور غذائیت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے زور دیا کہ ملک کو “سک کیئر” سے “ہیلتھ کیئر” کی جانب منتقل ہونا ہوگا، جہاں بیماری کے علاج کے بجائے اس کی روک تھام پر توجہ دی جائے۔انہوں نے کہا کہ صحت مند معاشرہ ہسپتالوں کے باہر تشکیل پاتا ہے جس میں صاف پانی، ویکسینیشن، متوازن غذائیت، اور طرزِ زندگی میں بہتری بنیادی عناصر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ مسلسل بیمار ہوتے رہیں تو دنیا کا کوئی بھی نظام صحت اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا۔وفاقی وزیر نے روایتی اور جڑی بوٹیوں پر مبنی ادویات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں یونانی اور ہربل طب کا وسیع تجربہ اور وسائل موجود ہیں تاہم اس شعبے کو مناسب سرپرستی اور سائنسی بنیادوں پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس ضمن میں حکمت عملی تیار کی ہے اور ادویات کے معیار اور اعتماد کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے طرزِ زندگی میں تبدیلی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید تحقیق کے مطابق صحت مند رہنے کیلئے نیند، خوراک اور روزمرہ معمولات کو قدرتی اصولوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت، ماہرین اور معاشرے کو مل کر ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں عوام بیمار ہونے کے بجائے صحت مند رہیں۔سید مصطفی کمال نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشترکہ دانش اور تحقیق کی مدد سے پاکستان صحت کے شعبے میں مثبت پیش رفت کرے گا اور عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کرے گا۔