حکومت کو عوامی مشکلات کا ادراک ہے ، حالات کے معمول پر آنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، شہباز شریف

16

لاہور،4اپریل  (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پٹرول پر عائد لیوی میں فوری طور پر 80 روپے کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عوامی مشکلات کا ادراک ہے اور حالات کے معمول پر آنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

جمعہ  کو  قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ  وہ آج  ایک مرتبہ پھر ایسے مشکل حالات میں  عوام سے مخاطب ہیں  جب خلیج میں جنگ جاری ہے اور اس کے باعث پورے خطے میں تیل کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں ، تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور عام آدمی کے لیے نئے چیلنجز ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے  حتی المقدور کوشش کی ہے  کہ عوامی بہبود کے لیے عوام  کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے جو  محدود قومی وسائل ہیں ان کو عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے صرف کیا جائے اور ایک ایک پیسے کی بچت سے  عوام کو مہنگائی کے طوفان سے بچایا جا سکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے اور مہنگائی  نے  دنیا کی طاقتور معیشتوں کی بھی کمر توڑ دی ہے  ،پاکستان بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے لیکن پچھلے تین ہفتوں میں انہوں نے عوام کے اوپر  روزانہ ہونے والے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ ڈالنا قطعا مناسب نہ سمجھا کیونکہ وہ  اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایک عام  آدمی کس طرح زندگی بسر کرتا ہے،  عوام کے بے پناہ مسائل ہیں ،اسی لیے انہوں نے ان تین ہفتوں میں قومی وسائل سے 129 ارب روپے خرچ کر کے عوام تک مہنگائی کے اس قیامت خیز طوفان کو پہنچنے نہیں دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دعا ہے کہ یہ جنگ جلد سے جلد بند ہو جائے اور امن قائم ہو  اس کے لیے پاکستان کی حکومت ، وہ خود ،نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر  انتہائی خلوص دل کے ساتھ  کوشاں ہیں، جب سے جنگ شروع ہوئی ہے ہم دن رات کاوشیں کر رہے ہیں اور اس وقت تک یہ فرض نبھاتے رہیں گے جب تک جنگ کے شعلے بجھ نہیں جاتے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اجتماعی کاوشوں اور بروقت فیصلوں کے تحت کل کے اعلانات کے مطابق موٹر بائیکس کو ایک لیٹر  پٹرول پر 100 روپے کی سبسڈی دی جائے گی ۔  یہ فیصلہ کیا گیا کہ گڈز ٹرانسپورٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ  میں مال بردار گاڑیوں کو سہولت دینے کے لیے ایک ماہ تک 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے سبسڈی دی جائے گی، چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار روپے، بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے اور مسافر بسوں   یعنی پبلک ٹرانسپورٹ کوایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور کرایوں کا بوجھ عوام پر نہ پڑے جبکہ  چھوٹے کسانوں کے لیے 1500 روپے فی ایکڑ امداد مہیا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  پاکستان ریلویز کے حوالے سے میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اکانومی کلاس کی بوگیوں کے مسافروں کے لیے قطعا کرایہ نہیں بڑھایا جائے گا اور اس حوالے سے وزارت ریلوے کو واضح ہدایات جاری کر دی  گئی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان  چیلنجز کا مقابلہ صرف اور صرف قومی یکجہتی، اتفاق اتحاد  کے ساتھ ہی  کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں اعلان کر رہا ہوں کہ    پٹرول کی لیوی میں فوری طور پر 80 روپے فی لیٹر کمی کی جارہی ہے اور اس طرح آج رات 12 بجے سے پٹرول کی قیمت  458 روپے فی لیٹر  سے کم ہو کر  378 روپے فی لیٹر  ہو جائے گی اس کا اطلاق ایک ماہ کے لئے ہو گا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتیں مل کر عوام کی مشکلات میں کمی لانے کے لیے کام کرتے رہیں گی۔ اللّہ تعالی کو منظور ہوا تو انشاءاللّہ بہت جلد ہم  بہت اچھے وقتوں میں ترقی ،خوشحالی غربت کے خاتمے اور پاکستان کی ترقی کی باتیں کر رہے ہوں گے۔