سلامتی کونسل میں ویٹو کے اختیار سے متعلق پاکستان کا واضح مؤقف

9

اسلام آباد، 14 اپریل (اے پی پی): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں ویٹو کے اختیار سے متعلق بین الحکومتی مذاکرات کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویٹو کے اختیار کو یا تو مکمل طور پر ختم کیا جائے یا اس کے استعمال کو سختی سے محدود کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، یونائٹنگ فار کنسینسس گروپ کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ سلامتی کونسل میں اکثر تعطل مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو کے اختیار کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے، جو بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق اہم فیصلوں میں رکاوٹ بنتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ویٹو کے اختیار کے خلاف عالمی سطح پر ایک مضبوط رائے موجود ہے اور یہ تصور بھی عام ہے کہ یہ استحقاق موجودہ دور میں فرسودہ ہو چکا ہے، تاہم اس کے باوجود نئے مستقل اراکین کو ویٹو دینے کی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں، جو ایک واضح تضاد ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ویٹو کے دائرہ کار میں کسی بھی توسیع اور نئے مستقل اراکین کو ویٹو دینے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے کیونکہ اس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ویٹو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منشور کا حصہ ہے اور مستقل پانچ ممالک اس کے تحفظ کے لیے متحد ہیں، تاہم پاکستان ویٹو کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے تاکہ جنرل اسمبلی اس پر مؤثر بحث کر سکے۔

سفیر نے نشاندہی کی کہ حالیہ برسوں میں ویٹو کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جس سے یہ ضرورت مزید بڑھ گئی ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جو اس کے استعمال کی سیاسی قیمت میں اضافہ کریں۔انہوں نے تجویز دی کہ سلامتی کونسل میں نئے ویٹو اختیارات دینے کے بجائے منتخب اراکین کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ طاقت کا توازن بہتر ہو سکے۔ ان کے مطابق اگر کونسل کے ارکان کی تعداد بڑھا کر 26 کی جائے تو قرارداد کی منظوری کے لیے زیادہ ووٹ درکار ہوں گے جس سے ویٹو کا استعمال مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار سے نہ صرف ویٹو کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ کونسل میں جمہوری توازن بھی بہتر ہوگا۔مزید برآں انہوں نے تجویز دی کہ کسی بھی خطے سے متعلق قرارداد کی منظوری کے لیے اس خطے کے تمام اراکین کی حمایت کو ضروری قرار دیا جائے تاکہ علاقائی نمائندگی اور ملکیت کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی اصلاح ایک جامع پیکج کے طور پر ہونی چاہیے اور ویٹو کے مسئلے کو دیگر اصلاحاتی نکات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حقیقی معنوں میں جامع اصلاحات مطلوب ہیں تو کسی ایک فریق کو خصوصی مراعات دینے کے بجائے سب کے لیے مساوی اصول اپنانا ہوں گے۔