سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کے حوالے سے خصوصی اجلاس، پنجاب میں فلاحی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ ، 16 لاکھ سے زائد افراد مستفید

23

لاہور، 27 اپریل (اے پی پی): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کے حوالے سے خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر میں جاری فلاحی پروگرامز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال سائرہ عمر نے اجلاس کو بریفنگ دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ مختصر مدت میں راشن کارڈ، ہمت کارڈ اور مینارٹی کارڈ کے ذریعے 16 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ چیف منسٹر پنجاب ہمت کارڈ کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد خصوصی افراد کو سہولیات فراہم کی گئیں جبکہ رواں مالی سال میں مزید دو لاکھ افراد کو مالی امداد فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

بریفنگ کے مطابق راشن کارڈ کے ذریعے 14 لاکھ سے زائد افراد کو ماہانہ مالی معاونت دی جا رہی ہے اور ’’مریم کو بتائیں‘‘   پروگرام کے تحت مزید 50 ہزار افراد کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح مینارٹی کارڈ کے ذریعے ایک لاکھ مستحق اقلیتی افراد کو سہ ماہی 10 ہزار 500 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کے خصوصی پروگرام کے تحت 16 ہزار سے زائد افراد کو وہیل چیئرز اور دیگر معاون آلات فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ دھی رانی پروگرام کے تحت 5 ہزار اجتماعی شادیوں کا انعقاد کیا گیا ہے اور 9 ہزار کا ہدف مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہدایت کی کہ وہیل چیئرز اور معاون آلات کی صفائی اور سروسز کی سہولت بھی فراہم کی جائے، جبکہ لاوارث بچوں کے لیے یتیم خانے قائم کیے جائیں اور خواتین و بچوں کی فلاح کے لیے مستند این جی اوز سے تعاون حاصل کیا جائے۔

انہوں نے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی خصوصی ہیلپ لائن 1737 قائم کرنے، صنعت زار کی ری ویمپنگ کے لیے نجی شعبے کو شامل کرنے اور زکوٰۃ فنڈز سے ادویات کی فراہمی کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں پنجاب بھر میں گداگروں کے ڈیٹا اور میپنگ کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی بھرپور مالی معاونت کو یقینی بنایا جائے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت کا مقصد عام آدمی کی فلاح و بہبود ہے اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو یورپی ممالک کی طرز پر عوام دوست بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کم آمدن افراد کی بحالی اور ان کی معاونت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں باعزت زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔