اسلام آباد، 29 اپریل (اے پی پی ): وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے، معیشت کو بلندیوں پر لے جانے کے لیے برامدات بڑھانا ہوں گی، بزنس ٹو بزنس روابط کو فروغ دینے کے لیے مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔وہ بدھ کو پاک۔یورپی یونین بزنس فورم کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جہاں انہوں نے بزنس ٹو بزنس روابط کے فروغ کے لیےمشترکہ اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع اور پرکشش مواقع موجود ہیں جن سے عالمی سرمایہ کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یورپ پاکستان کا ایک اہم تجارتی اور سٹریٹجک شراکت دار ہے اور دونوں کے درمیان گہرے تاریخی روابط موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فورم کا بنیادی مقصد قومی سطح پر دولت کی تخلیق ہے جس کی بنیاد پیداواریت، جدت اور طویل المدتی ترقی پر ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ مختلف ممالک کےدرمیان روابط سے نہ صرف کاروبار اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ ہوتا ہے بلکہ سوچ اور طریقہ کار بھی منتقل ہوتے ہیں جس سے نئے بزنس ماڈلز اور خیالات جنم لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے مگر موثر خیالات بھی عالمی ویلیو چین میں اہم مقام حاصل کر سکتے ہیں اور یہی عمل معاشی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فورم کا انعقاد وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ایک اہم کاوش ہے جو ملک میں انوویشن ایکو سسٹم کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔ یورپی کاروباری شخصیات اپنے ساتھ صدیوں پر محیط علمی اور تعلیمی روایت لاتی ہیں جو نوجوان نسل کے لیے نئے مواقع پیدا کرتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ دولت کی تخلیق پائیدار بنیادوں پر ہونی چاہیے اور وسائل کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے صرف عارضی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے وسائل کا متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یورپ ماحولیاتی تبدیلی اور گرین اکانومی میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہےجبکہ یورپی یونین کی جانب سے ایس ایم ایز کی گرین ٹرانزیشن کے لیے سرمایہ کاری قابل تحسین ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خصوصاً سیلاب پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں جن کے باعث جانی و مالی نقصان اور بڑے پیمانے پر بے گھری دیکھنے میں آئی۔انہوں نے کہا کہ جدید دور میں الیکٹریفیکیشن، معدنیات پر مبنی صنعت، مصنوعی ذہانت،معلوماتی انقلاب اور بائیوٹیکنالوجی جیسے رجحانات بیک وقت ترقی کر رہے ہیں جو مستقبل کے عالمی نظام کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔











