وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی زیرِ صدارت جانوروں پر ظلم سے متعلق قائم کمیٹی کا پہلا اجلاس

8

اسلام آباد، 29 اپریل (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے بدھ کو اسلام آباد میں جانوروں پر ظلم سے متعلق قائم کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔

وزیرِ اعظم کی ہدایت پر قائم کی گئی اس کمیٹی کا مقصد پاکستان میں تحفظ حیوانات کے فروغ کے لیے جامع فریم ورک تیار کرنا، جانوروں پر ظلم و ستم کے واقعات کا جائزہ لینا اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کرنا ہے۔ کمیٹی کو قانونی ڈھانچے کا جائزہ لے کر اسے مزید مؤثر بنانے، غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کی روک تھام کے لیے نگرانی و نفاذ کے نظام کو مضبوط کرنے اور متعلقہ سہولیات میں اصلاحات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اجلاس کے دوران جانوروں کی فلاح و بہبود اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق موجودہ چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان میں اداروں کے درمیان کمزور رابطہ کاری، اختیارات کا تداخل، ناکافی ویٹرنری ڈھانچہ، جانوروں پر ظلم سے متعلق قوانین میں کمزور سزائیں، ناقص عملدرآمد اور عوامی آگاہی کی کمی جیسے مسائل پر غور کیا گیا۔

کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ پاکستان غیر قانونی جنگلی حیات کی اسمگلنگ کے حوالے سے ایک حساس ملک ہے، جہاں باز، میٹھے پانی کے کچھوے، بڑی بلیوں کی اقسام، مگرمچھ، پرندے اور بندر سمیت مختلف انواع کی غیر قانونی تجارت کی جاتی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں آوارہ کتوں کے انسانی بنیادوں پر انتظام کے لیےٹی این وی آر(پکڑنا، نس بندی، ویکسینیشن اور دوبارہ چھوڑنا) مہم شروع کی جا چکی ہے۔ تاہم، ان اقدامات کو مؤثر انداز میں وسعت دینے کے لیے مزید رضاکاروں اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں جانوروں کی لڑائی کے غیر قانونی اڈوں اور سوشل میڈیا پر تشدد پر مبنی ویڈیوز کی تشہیر کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس سے قبل تمام صوبوں سے بنیادی اعدادوشمار جمع کیے جائیں تاکہ مسئلے کی شدت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے نس بندی اور ویکسینیشن پروگرامز کے لیے درکار مالی وسائل کا تخمینہ لگانے اور ان اقدامات کو قومی سطح پر وسعت دینے کے لیے سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ جانوروں پر ظلم انسانیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی ناگزیر ہے کیونکہ نس بندی اور ویکسینیشن کے باوجود کئی آبادیاں آوارہ کتوں کو واپس اپنے علاقوں میں آنے نہیں دیتیں۔ انہوں نے ماہرین اور سماجی کارکنوں کو پالیسی سازی میں شامل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزارتِ داخلہ، ایم سی آئی، نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو) اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔