اسلام آباد، 06 اپریل(اے پی پی ): قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ قومی قیادت نے صوبوں کی مشاورت سے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کرنا۔پیٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر پیر کے روزشام قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ جاری علاقائی تنازعہ کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان اپنی پیٹرولیم کی اسی سے نوے فیصد طلب درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران نے عالمی توانائی کی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے متبادل راستے استعمال کرکے پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اب سعودی عرب کی یانبو بندرگاہ کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات اور عمان کی بندرگاہوں کے ذریعے تیل درآمد کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی نہیں ہے۔
کھاد کی دستیابی کے حوالے سے علی پرویز ملک نے کہا کہ تمام دس کھاد فیکٹریوں کو گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے کھاد کی دستیابی 4500 روپے فی بوری پر برقرار رکھنے کی سخت ہدایات جاری کیں ہیں۔
ٹارگٹڈ سبسڈی کے بارے میں ایوان کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل والیٹس کے ذریعے موٹر سائیکل سواروں، مسافروں، گڈز ٹرانسپورٹرز اور کسانوں کو لاکھوں روپے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔











