وفاقی کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس، غذائی تحفظ کی صورتحال کا جائزہ، خریف 2026-27 کے اہداف مقرر

9

اسلام آباد، 14 اپریل (اے پی پی): وفاقی کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں غذائی تحفظ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور خریف 2026-27 کے پیداواری اہداف مقرر کیے گئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ غذائی تحفظ کے حصول کے لیے ملکی زرعی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے، خصوصاً فی ایکڑ پیداوار بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خوراک کی دستیابی مناسب ہے تاہم کم آمدنی والے طبقات کے لیے اس کی استطاعت ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عبوری قومی گندم پالیسی 2025-26 ملک بھر میں نافذ کی جا رہی ہے تاکہ کسانوں کی معاونت کی جا سکے اور گندم کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فصلات، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور پائیدار ترقی کا انحصار ان وسائل کے مؤثر استعمال پر ہے۔ انہوں نے جدید زرعی ٹیکنالوجی، موسمیاتی لحاظ سے موافق طریقہ کاشت اور مؤثر مارکیٹنگ نظام اپنانے پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیر اعظم کے اقتصادی تبدیلی ایجنڈا کے تحت وزارت نے صوبائی حکومتوں اور گرین پاکستان انیشیٹو کے اشتراک سے جامع زرعی سیکٹر روڈمیپ تیار کیا ہے جس میں میکانائزیشن، بیج کے نظام میں اصلاحات، کپاس کی بحالی، ویلیو ایڈیشن، زرعی قرضوں تک بہتر رسائی اور برآمدات کے فروغ پر توجہ دی گئی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا قیام خوراک کے معیار کو بہتر بنانے اور پاکستانی زرعی برآمدات کی مسابقت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔اجلاس میں ربیع فصلوں 2025-26 کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

 کمیٹی کو بتایا گیا کہ گندم کی پیداوار کا تخمینہ 29,310 ہزار ٹن ہے جو 9,385 ہزار ہیکٹر رقبے پر حاصل ہوئی۔ پیاز کی پیداوار 2,701.78 ہزار ٹن رہی جو 163.75 ہزار ہیکٹر رقبے پر ہوئی۔ ٹماٹر کی پیداوار 555.72 ہزار ٹن رہی جو 41.99 ہزار ہیکٹر رقبے پر ہوئی جس میں پیداوار میں 11.9 فیصد کمی واقع ہوئی۔ آلو کی پیداوار 12,171.0 ہزار ٹن رہی جو 466.56 ہزار ہیکٹر رقبے پر حاصل ہوئی جس میں 23.2 فیصد اضافہ ہوا۔ چنے کی پیداوار 262.03 ہزار ٹن رہی جو 782.24 ہزار ہیکٹر رقبے پر حاصل ہوئی جس میں 52.4 فیصد نمایاں اضافہ ہوا۔

کمیٹی نے خریف فصلوں 2026-27 کے پیداواری اہداف مقرر کیے۔ چاول کے لیے 9.17 ملین ٹن پیداوار کا ہدف 3.39 ملین ہیکٹر رقبے پر، مکئی کے لیے 9.77 ملین ٹن پیداوار کا ہدف 1.5 ملین ہیکٹر رقبے پر، گنے کے لیے 80.3 ملین ٹن پیداوار کا ہدف 1.14 ملین ہیکٹر رقبے پر اور کپاس کے لیے 9.64 ملین بیلز کا ہدف 2.16 ملین ہیکٹر رقبے پر مقرر کیا گیا۔ مونگ، ماش اور مرچوں سمیت دیگر فصلوں کے اہداف بھی مقرر کیے گئے۔

خریف فصلوں 2026 کے لیے زرعی ان پٹس کی دستیابی پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ نہری نظام میں پانی کی دستیابی 67.451 ملین ایکڑ فٹ رہے گی۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ مارچ سے اپریل کے پہلے عشرے تک اوسط سے زائد بارشوں نے صورتحال کو کسی حد تک بہتر بنایا ہے تاہم گزشتہ مہینوں میں خشک موسم کے باعث بڑے زرعی میدانوں میں مٹی کی نمی اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔ کمیٹی نے دستیاب پانی کے دانشمندانہ استعمال پر زور دیا۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ چاول اور مکئی کے بیج کی دستیابی ضرورت کے مطابق رہے گی جبکہ مقامی پیداوار اور دستیاب ذخائر کی وجہ سے یوریا کی فراہمی بھی تسلی بخش رہے گی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے زرعی قرضوں کی متوقع فراہمی 3,062 ارب روپے تک بڑھا دی گئی ہے جو گزشتہ سال کی 2,577 ارب روپے کی تقسیم کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے ملک میں غذائی تحفظ کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم اس امر پر زور دیا کہ زرعی تحقیق و ترقی کو مزید فروغ دیا جائے اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے سینئر افسران کے علاوہ صوبائی محکمہ جات زراعت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ، نیشنل فرٹیلائزر ڈیولپمنٹ سینٹر، محکمہ موسمیات، پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ، ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن، نیشنل سیڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے نمائندگان نے شرکت کی۔