پاکستان کا بگڑتی عالمی صورتِ حال کے تناظر میں اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کے مابین مضبوط تعاون پر زور

21

اقوامِ متحدہ، 14 اپریل (اے پی پی ): پاکستان نے بڑھتی ہوئی عالمی بے یقینی کے ماحول میں اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کے درمیان گہرے تعاون کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وسیع ہوتی جغرافیائی سیاسی خلیجیں کثیرالجہتی نظام کو کمزور کر رہی ہیں اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کو ایک نازک موڑ کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کی شراکت داری سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور سے دیرینہ وابستگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اقوامِ متحدہ کو مرکز بناتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے اس کے عزم کا خیرمقدم کرتا ہے۔

سفیر عاصم نے کہا کہ عالمی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، جہاں اسٹریٹجک مسابقت تعاون کی جگہ لے رہی ہے، جس سے ایسے وقت میں عالمی عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے جب ترقیاتی خلیج کو کم کرنے اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔

اس تناظر میں انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے باب ہشتم کے تحت علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو ایک اسٹریٹجک ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین جیسی علاقائی تنظیمیں امن و سلامتی، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ میں اہم شراکت دار ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2788، جو گزشتہ جولائی پاکستان کی صدارت میں منظور ہوئی، علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے کردار کو تسلیم کرتی ہے جو تنازعات کی روک تھام اور پرامن حل میں اقوامِ متحدہ کی کوششوں کو تقویت دیتی ہیں، اور رکن ممالک کو ایسے تعاون کو مضبوط بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم سفارتی اور انسانی ہمدردی کا کردار ادا کر رہی ہے، اور مسئلہ فلسطین پر اس کے اصولی مؤقف کو سراہا، جس میں بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی حمایت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کا اثر و رسوخ فلسطینی عوام کی مشکلات کم کرنے اور ان کے جائز حقوق، بشمول حقِ خودارادیت اور ریاستی حیثیت، کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے یوکرین کے تنازع کے بارے میں بھی امید ظاہر کی کہ وہ تمام متعلقہ فریقین کے مفادات کے مطابق بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل ہو گا۔ انہوں نے ان عالمی چیلنجز کی نشاندہی کی جو بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو متاثر کر رہے ہیں، جن میں غذائی عدم تحفظ، پانی کی قلت، توانائی میں اتار چڑھاؤ، سپلائی چین میں خلل، وبائیں، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات شامل ہیں۔

 انہوں نے 2030 ایجنڈا، پیرس معاہدہ، عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات اور انسانی ہمدردی کی امداد کے لیے یورپی یونین کے عزم کا خیرمقدم کیا، اور کہا کہ اقوامِ متحدہ کے اداروں، فنڈز اور پروگرامز کے لیے اس کی مسلسل حمایت نہایت بروقت اور اہم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ترقیاتی تعاون میں کمی آ رہی ہے۔